.

شام میں پہلی مرتبہ، داعش نے دو عورتوں کے سرقلم کردیے

مقتولہ عورتوں اور ان کے خاوندوں پر لوگوں پر جادو کرنے کا الزام تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) نے شام کے مشرقی صوبے دیرالزور میں جادو ٹونے کے الزام میں دو عورتوں کے سرقلم کردیے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق شام میں داعش کے ہاتھوں عورتوں کے سرقلم کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ دیرالزور شہر میں ایک عورت کے ساتھ اس کے خاوند کا بھی سرقلم کیا گیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے المیادین شہر میں ایک اور عورت اور اس کے خاوند کا لوگوں پر جادو کرنے کے الزام میں سرقلم کیا ہے۔

داعش کے جنگجو اس سے پہلے شام میں مقامی اور غیرملکی مردوں کے سرقلم کرتے رہے ہیں۔البتہ بعض عورتوں کو سنگسار کیا گیا ہے لیکن اس طرح عورتوں کے سرقلم کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

جہادی جان کے نام سے معروف داعش کا برطانوی قصاب اب تک متعدد غیرملکی امدادی کارکنان ،صحافیوں اور اپنے مخالف جنگجوؤں اور فوجیوں کے سرقلم کرچکاہے۔مغربی یرغمالیوں کے سرقلم کرکے عالمگیر شہرت پانے والے اس نقاب پوش قاتل کی شناخت محمد اموازی کے نام سے کی گئی تھی۔اس کا آبائی تعلق کویت سے ہے۔وہ لندن میں زیرتعلیم رہا تھا اور ایک کمپیوٹر پروگرامر ہے۔