اردن: ایرانی حمایت یافتہ دہشت گردی کی سازش ناکام
عراق اور ناروے کی شہریت کے حامل شخص سے 45 کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد
اردن کی سکیورٹی فورسز نے ایران کے حمایت یافتہ ایک گروپ کے مشتبہ رکن کی دہشت گردی کی سازش ناکام بنا دی ہے۔
اردنی اخبار الرائی میں سوموار کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق مشتبہ شخص ایرانی گروپ بیت المقدس سے تعلق رکھتا ہے اور وہ عراق اور ناروے کی شہریت کا حامل ہے۔اس مشتبہ شخص کو اردن کے شمال سے گولہ بارود کی بھاری مقدار سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔
اردن کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت آج سوموار سے اس شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کرنے والی تھی۔ایک ذریعے نے اخبار کو بتایا ہے کہ اس مشتبہ شخص کے قبضے سے پینتالیس کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔
اس ذریعے کا کہنا ہے کہ اردن میں دھماکا خیز مواد کی مقدار اور معیار کے اعتبار سے گذشتہ ایک عشرے میں اپنی نوعیت کا یہ ایک سنگین کیس ہے اور اس کو برآمد کرکے دہشت گردی کی ایک بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ نام کی مماثلت کے باوجود ایرانی حمایت یافتہ گروپ بیت المقدس کا مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں برسرپیکار داعش سے وابستہ جنگجو گروپ انصار بیت المقدس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس مصری گروپ نے حال ہی میں اپنا نام تبدیل کرکے صوبہ سیناء رکھ لیا ہے۔