داعش کے 'وزیر تیل' کی بیوہ عراقی حکام کے حوالے

'ام سیاف کی حوالگی کا فیصلہ پینٹاگان کی پالیسی کے مطابق ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا نے داعش کے اہم رہنما ابو سیاف المعروف وزیر پیٹرولیم کی بیوہ کو عراقی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ بغداد کے حوالے کی جانے والی خاتون کو شامی شہر دیر الزور میں امریکا کی اسپیشل ٹاسک فورس کی ایک کارروائی کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ ابو سیاف تیل کی غیر قانونی فروخت کے ذریعے تنظیم کے لئے فنڈ جمع کیا کرتے تھے۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق نسرین اسعد ابراہیم المعروف 'ام سیاف' تاحال امریکی فوجیوں کے پاس تھیں، انہیں گذشتہ روز ہی عراق کے نیم خودمختار صوبے کردستان میں عراقی حکام کے حوالے کیا گیا۔

'ام سیاف' 16 مئی کو امریکا اسپیشل ٹاسک فورس کی ایک خصوصی کارروائی کے بعد گرفتار ہوئیں۔ اس کارروائی میں ان کے شوہر مارے گئے تھے۔ ان پر داعش کے لئے انسانی سمگلنگ کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ امریکی حکام کے مطابق ام سیاف اور اس کے شوہر تاوان کے لئے اغوا کئے جانے والے غیر ملکیوں کے معاملات کے نگران تھے۔ واشنگٹن کے خیال میں ابو سیاف نے امریکا سے تعلق رکھنے والی امدادی کارکن کایلہ مولر کے اغوا اور بعد میں انہیں قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ترجمان برناڈیٹ میھان کے مطابق 'ام سیاف' داعش کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

پینٹاگان نے جمعرات کے روز ایک بیان میں بتایا کہ ام سیاف کی عراقی حکومت کو حوالگی سفارتی، انٹلیجنس اور قانونی معیارات کی روشنی میں ہر لحاظ سے جائز ہے۔

ام سیاف کی حوالگی امریکی وزارت دفاع کی نظر بندی اور پوچھ تاچھ کی پالیسی سے ہم آہنگ ہے، اسی پالیسی کے روشنی میں امریکا کو ان افراد کا پیچھا کرنے کا حق حاصل ہے کہ جنہیں میدان جنگ سے گرفتار کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں