.

میدان جنگ سے فرار،عراقی کمانڈروں کے کورٹ مارشل کا حکم

الرمادی میں داعش کے مقابل پسپا ہونے والے فوجی کمانڈروں کے خلاف پہلی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے مغربی شہر الرمادی میں داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں اپنی پوزیشنوں سے پسپا ہونے والے فوجی کمانڈروں کے کورٹ مارشل کی منظوری دے دی ہے۔

عراق کی ایک تحقیقاتی کونسل نے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والے ان فوجی کمانڈروں کے کورٹ مارشل کی سفارش کی تھی۔وزیراعظم حیدر العبادی نے ان کے خلاف ایسے وقت میں فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کا حکم دیا ہے جب وہ ملک سے بدعنوانیوں اور بد انتظامی کے خاتمے کے لیے وسیع تر اصلاحات پر عمل پیرا ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے مئی میں عراقی فوج کو شکست دینے کے بعد صوبہ الانبار کے دارالحکومت الرمادی پر قبضہ کیا تھا۔ان کی اس کامیابی کے بعد عراقی فورسز کی ملک کے شمالی اور شمال مغربی صوبوں سے اس جنگجو گروپ کو جلد نکال باہر کرنے کے لیے امیدیں دم توڑ گئی تھیں۔

اس سے پہلے جون 2014ء میں عراقی فوج اسی انداز میں شمالی شہرموصل سے بھی داعش کی یلغار کے بعد پسپا ہوگئی تھی اور فوجی جاتے ہوئے اپنی وردیاں اور اسلحہ بھی وہیں چھوڑ گئے تھے۔داعش کی چڑھائی کے بعد عراقی حکومت اب باقی ماندہ فوج اور پڑوسی ملک ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں پر انحصار کررہی ہے۔

ناقدین کا کہناہے کہ عراقی فوج کی سابق وزیراعظم نوری المالکی کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ بنیاد پر تشکیل کی گئی تھی۔فوج سیاست کی دراندازی اور بدعنوانیوں کی وجہ سے کمزور ہوچکی ہے اور وہ داعش کے مقابلے میں اکیلے جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔اس لیے اس کو الانباراور دوسرے سنی اکثریتی صوبوں میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے شیعہ ملیشیاؤں یا مقامی سنی جنگجوؤں کی حمایت درکار ہے۔