اصلاحات نہ ہوئیں تو عراق تقسیم ہوسکتا ہے: علی السیستانی
عراق کے سرکردہ شیعہ عالم دین آیت اللہ علی السیستانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حقیقی اصلاحات نہیں کی جاتی ہیں تو اس کے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں اور ملک تقسیم بھی ہوسکتا ہے۔
آیت اللہ علی السیستانی حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ ملک میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں اور ان ہی کے مطالبے پر وزیراعظم حیدر العبادی نے بدعنوانیوں کے خاتمے اور حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے وسیع تر اصلاحات کا عمل شروع کر رکھا ہے۔
السیستانی کے دفتر کی جانب سے اے ایف پی کے سوالوں کے جواب میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ''آج اگر کرپشن کے خلاف بے رحم جنگ لڑنے کے لیے حقیقی اصلاحات نہیں کی جاتی ہیں اور سماجی انصاف مہیا نہیں کیا جاتا ہے تو حالات پہلے سے بھی زیادہ بد تر ہوسکتے ہیں اور خدا نخواستہ عراق کی تقسیم کی راہ ہموار ہوسکتی ہے''۔
ان کا اپنے مطالبے کے مطابق عراق میں اصلاحات نہ ہونے کی صورت میں یہ پہلا براہ راست انتباہ ہے۔انھوں نے کہا کہ عراق میں کرپشن کی وجہ سے پہلے داعش کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''اگر سکیورٹی فورسز میں کرپشن ہوتی اورنہ اعلیٰ حکام اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے تو دہشت گرد تنظیم داعش عراق کے ایک بڑے علاقے پر قبضے میں کبھی کامیاب نہ ہوسکتی تھی''۔
واضح رہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہروں میں حالیہ دنوں کے دوران عوام شدید گرمی کے باوجود حکومت کے خلاف بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی پر احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ہیں۔بغداد اور دوسرے شہروں میں بجلی کا تعطل سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور لوگوں کو چوبیس گھنٹے میں چند گھنٹے ہی بجلی دستیاب ہوتی ہے۔
عراقیوں کے احتجاج کے پیش نظر ہی علی السیستانی نے 7 اگست کو وزیراعظم حیدر العبادی سے بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ اقدامات ان کے مطالبے کے مطابق نہیں ہیں۔
اس سے اگلے جمعہ کو عراق کے سب سے بااثر آیت اللہ نے عدالتی اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔اس کے ردعمل میں حیدرالعبادی نے ملکی عدلیہ پر زور دیا تھا کہ وہ ازخود ایسے اقدامات کرے جن سے اس کی آزادی کو یقینی بنایا جاسکے اور وہ بدعنوانیوں کا خاتمہ کرے۔