پتھر پھینکنے والے فلسطینیوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے پتھر پھینکنے والے فلسطینیوں کے خلاف سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے یہ اعلان مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ تین روز سے جاری جھڑپوں کے بعد کیا ہے۔

نیتن یاہو نے منگل کی شب اپنی سکیورٹی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے آغاز کے موقع پر کہا کہ ''بہت سے معاملات میں سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مظاہرین سے نمٹنے کے قواعد وضوابط میں ترامیم و تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے گا اور پتھر پھینکنے والوں کے لیے کم سے کم سزا مقرر کی جائے گی''۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ''قابض فورسز کے خلاف احتجاج کے دوران پتھر پھینکنے والے کم سن بچوں اور ان کے والدین پر بھی جرمانہ عاید کیا جائے گا''۔

مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ میں حالیہ جھڑپوں کے دوران نوجوان مظاہرین نے اسرائیلی پولیس کے خلاف اپنے روایتی ہتھیار پتھر کا استعمال کیا ہے۔اسرائیلی سکیورٹی اہلکار مسجدالاقصیٰ کی بے حرمتی کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئے تھے اوروہاں موجود فلسطینیوں نے ان کی مزاحمت کی تھی۔مسجد الاقصیٰ کے انتظام وانصرام کے ذمے دار اردنی وقف کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار مسجد کے اندر داخل ہوئے تھے اور انھوں نے وہاں نقصان پہنچایا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ''یہود کے نئے سال کے آغاز سے ایک روز قبل ایک مرتبہ پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پتھر بھی ہلاک کرسکتے ہیں''۔وہ گذشتہ اتوار کو مقبوضہ بیت المقدس میں ایک اسرائیلی ڈرائیور کی ہلاکت کا حوالہ دے رہے تھے جو پتھراؤ کے دوران اپنی کار کا کنٹرول برقرار نہیں رکھ سکا تھا اور کار حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔

ہنگامی اجلاس کے دوران نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ مسجد الاقصیٰ سے متعلق ''اسٹیٹس کو'' برقرار رکھا جانا چاہیے۔اجلاس میں اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون اور وزیرانصاف ایلیت شیکد نے بھی شرکت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ گڑ بڑ کرنے والوں کو یہود کی مسجد الاقصیٰ میں آمد میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔واضح رہے کہ یہود کو بعض مواقع پرمسجدالاقصیٰ میں داخلے کی اجازت ہے لیکن انھیں وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ان کے اور مسلمان عبادت گزاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔

یہودیوں کے نئے سال کے آغاز کے موقع پر ایک ہزارسے زیادہ سیاحوں کی مسجد الاقصیٰ میں آمد ہوئی تھی جس کی وجہ سے فلسطینیوں اور مسلم حکام کے اس خدشے کو تقویت ملی تھی کہ اسرائیل اس مقدس مقام کے موجودہ انتظام کو ختم کرنا چاہتا ہے اور مسجد الاقصیٰ کے استعمال کے حق کو یہود اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے۔اس کے تحت یہود کو صبح کے اوقات میں مسلمانوں کو باقی دن کے دوران مسجد میں عبادت کا حق حاصل ہوگا۔

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے دوران بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں