.

سابق ایرانی صدر نژاد کا محافظ شام میں لڑتے ہوئے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کا ایک سابقہ محافظ شام کے شمالی شہر حلب کے نزدیک باغیوں کے خلاف لڑائی میں مارا گیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''محافظ عبداللہ باقری نے حلب کے نزدیک جمعرات کو ایک مقبرے کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے''۔

لیکن فارس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا مقتول ایران کی پاسداران انقلاب کا اہلکار تھا یا وہ وہاں شیعہ ملیشیا میں شریک ہوکر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارا گیا ہے۔وہ مختصر وقت کے لیے سابق ایرانی صدر محمد احمدی نژاد کا محافظ رہا تھا۔

شام میں اس ماہ کے دوران داعش اور دوسرے گروپوں کے خلاف لڑائی میں اب تک چار ایرانی کمانڈر ہلاک ہوچکے ہیں۔گذشتہ جمعہ کو حلب کے نزدیک سپاہ پاسداران انقلاب کے میجرجنرل حسین ہمدانی داعش کے خلاف لڑائی میں مارے گئے تھے۔وہ صوبہ حلب میں داعش کے خلاف جنگ میں شامی فوج کی رہ نمائی کررہے تھے اور انھوں نے پاسداران انقلاب کے بہ قول دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایرانی پارلیمان کے رکن اسماعیل کوثری نے تب ایک بیان میں کہا تھا کہ جنرل ہمدانی نے شام کی مسلح افواج اور رضاکار جنگجوؤں کو دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف لڑائی کے لیے منظم کرنے میں مدد دی تھی۔

حسین ہمدانی شام میں مارے جانے والے سپاہ پاسداران کے سینیر ترین کمانڈر تھے۔ان سے قبل جنوری میں ایران کے بریگیڈئیر جنرل محمد علی اللہ دادی حزب اللہ کے چھے جنگجوؤں سمیت اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے چند روز قبل یہ اطلاع دی تھی کہ ایران کے سیکڑوں فوجی اسلحے سمیت شام پہنچے تھے۔اب وہ جنگ زدہ ملک کے شمال میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اسدی فوج کے ساتھ مل کر زمینی کارروائیوں میں شریک ہیں۔لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی ان کارروائیوں میں حصہ لےرہی ہے۔تاہم ایران شام میں اپنے فوجیوں کی موجودگی کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ایران کی جانب سے بشارالاسد کی امداد صرف فوجی مشیروں کی صورت ہی میں رہی ہے۔البتہ اس نے عراقیوں اور بعض افغان جنگجوؤں پر مشتمل ملیشیاؤں کو شامی حکومت کی حمایت اور باغیوں سے لڑنے کے لیے تربیت دے کر بھیجا تھا۔پاسداران انقلاب بھی شام میں جنگی محاذوں پر اپنے کمانڈروں کی موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں۔

ایران کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ بھی شامی فوج کے شانہ بشانہ گذشتہ ساڑھے چار سال سے باغیوں کے خلاف لڑرہی ہے۔شامی جنگ میں حالیہ ہفتوں کے دوران نیا اضافہ روس کی فوجی مداخلت ہے اور روس کے لڑاکا طیارے 30 ستمبر سے شام کے وسطی ،شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں داعش اور دوسرے اسد مخالف باغی جنگجو گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔