.

بشار الاسد کے معاملے پر تہران اور ماسکو میں اختلافات؟

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ نے بھری محفل میں بھانڈا پھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے کہا ہے کہ روس، شام میں اپنے مفادات کے پیچھے ہے۔ شام کے اس 'شمالی دوست' کو بشار الاسد کے مستقبل سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکا اور مغربی ملکوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے پر دستخط ومنظوری کے بعد تہران یونیورسٹی میں گذشتہ روز منعقد ہونے والے پہلے امریکا مخالف اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پاسدران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی 'فارس' کے مطابق اس اجلاس کا موضوع 'حملوں کا دو لد گیا' جس میں سرکردہ ایرانی فوجی عہدیدار کے اظہار خیال نے شامی حکومت کے تحفظ کی دعویدار دو حکومتوں کے درمیان اختلاف کا پردہ چاک کر دیا۔

محمد علی جعفری کا دعوی تھا کہ شامی عوام کی اکثریت بشار الاسد کی حامی ہے۔ شمالی دوست نے اپنے مفادات کی تلاش میں حال ہی میں شام میں فوجی مداخلت کی ہے۔ اسے ہماری طرح بشار الاسد کی بقاء عزیز نہیں۔ شمالی دوست مجبوری یا کسی اور وجہ سے شام میں رہنے پر مجبور ہے۔

جنرل جعفری نے کہا کہ 'ایران کو بشار الاسد کا کوئی متبادل دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کے مرشد اعلی اور پاسداران انقلاب کا بھی یہی نقطہ نظر ہے۔ کچھ لوگ یہ بات نہیں سمجھتے، اسی لئے اسد کے متبادل کی بات کرتے ہیں۔'

اپنے خطاب میں جنرل جعفری نے کہا کہ بشار الاسد بین الاقوامی اور مغربی دنیا کے غرور وتکبر کے خلاف مزاحمت، عزم وثبات کا پیکر ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ تہران، ان کے بعد آنے والے کسی رہنما کو قبول نہیں کرے گا۔ ہمیں ان کے بعد کوئی شخص آتا دکھائی نہیں دیتا۔

تہران یونیورسٹی کے جس اجلاس سے جنرل جعفری خطاب کر رہے تھے اس میں حکومت کے حامی طلبہ کی بڑی اکثریت موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ شامی مزاحمت اور بشار الاسد ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اسی لئے دشمن ہمیں بشار الاسد کی رخصتی پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ ہمیں ہماری مرضی کے مطابق نوازے اور اس کے بدلے ہمیں بشار الاسد کی جگہ کسی دوسرے کو قبول کرنے پر تیار کیا جائے۔

ایران کی طاقتور اور مؤثر فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ ان کا ملک مشاورت کی شکل میں بشار الاسد کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے بعض امور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کیسے بشار کی مدد کر رہے ہیں، موجودہ اجلاس میں ان کا ذکر مناسب نہیں ہے۔

جنرل جعفری کے خیالات بشار الاسد کا سب سے ٹھوس اور مضبوط دفاع تھے۔ بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹانے سے متعلق ایران کی متعدد بار تردید کافی عرصے بعد کسی اعلی حکومت اور بالخصوص فوجی عہدیدار سے سنی گئی۔ نیز اس خطاب نے بشار الاسد کے دو اہم حلیفوں روس اور ایران کے درمیان شامی صدر کے مستقبل سے متعلق اختلافی موقف کو بھی دنیا کے سامنے مکنشف کیا ہے۔