یمن: آپریشن کے 200 دن مکمل، 24 ہزار باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں حوثی باغیوں اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کے خلاف اور آئینی حکومت کی بحالی کے لیے اتحادی ممالک کے آپریشن کو 200 دن پورے ہو گئے ہیں۔ اس عرصے میں حکومتی ملیشیا اور اتحادی طیاروں کی بمباری سے کم سے کم چوبیس ہزار باغی ہلاک کیے گئے ہیں۔

اخبار"صدائے مزاحمت" کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں آپریشن فیصلہ کن طوفان کے دو سو ایام میں یمنی باغیوں کی صفوں میں ہونے والے جانی نقصان کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن میں اب تک 23 ہزار 756 حوثی اور علی صالح کے وفادار ہلاک جب کہ 50 ہزار 500 زخمی ہو چکے ہیں۔ حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں 2727 باغیوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

مآرب شہر حوثی باغیوں کے لیے مہلک ترین محاذ جنگ ثابت ہوا جہاں باغیوں کو 4117 جنگجوئوں کو قربان پڑا ہے۔ اس کے عدن میں 4000 جنگجو ہلاک ہوئے۔ تعز میں 3653، البیضاء میں 3150 جنگجو ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق الضالع گورنری میں 3611، لحج میں 2476، الجوف میں 899، اِب میں 726، شبوۃ میں 400، ذمار میں 220، صنعاء میں 167، دارالحکومت سیکرٹیریٹ میں 78 اور عمران گورنری میں 37 باغی ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طورپر 50 ہزار 500 باغی زخمی ہوئے۔ ان میں عدن میں 7890، البیضاء میں 5422، تعز میں 5133، مآرب میں 5000، الضالع میں 2200، الجوف میں 1789، اِب میں 929، لحج میں 400، الحدیدہ میں 341، ذمار میں 325، صنعاء میں 290، دارالحکومت سیکرٹیریٹ میں 90 اور عمران میں 45 جنگجو زخمی ہوئے۔

حکومت نواز فورسز کی کارروائیوں میں کل 2727 باغی گرفتار ہوئے۔ مزاحمتی فورسز اور اتحادی طیاروں کی بمباری سے باغیوں کے اسلحہ کے کئی مراکز کو تباہ کرکے انہیں دفاعی اعتبار سے بھی غیرمعمولی نقصان سے دوچار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بمباری سے باغیوں کے زیراستعمال 1773 فوجی گاڑیاں اور دیگر بھاری میشنری تباہ کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں