.

غربِ اردن : اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے غربِ اردن میں فائرنگ کرکے ایک فلسطینی کار ڈرائیور کو شہید کردیا ہے۔اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فلسطینی نے غربِ اردن میں یہودی آباد کاروں کی بستی کفر ایڈمم کے نزدیک ایک بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر اپنی کار چڑھا دی تھی جس سے دو فوجی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

جمعہ کو پیش آئے اس واقعے کے بعد یکم اکتوبر سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد اٹھانوے ہوگئی ہے۔ان میں نصف کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آور تھے اور ان کے چاقو حملوں اور فائرنگ سے سترہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ اریٹریا کا ایک شہری اور ایک امریکی بھی اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا۔

گذشتہ ہفتہ سب سے زیادہ ہلاکت آفریں ثابت ہوا ہے اور اس دوران امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا ہے اور انھوں نے اسرائیلی اور فلسطینی قیادت سے امن عمل کی بحالی کے حوالے سے بات چیت کی ہے لیکن وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کو رکوانے میں ناکام رہے ہیں اور قابض اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے روایتی ہتھکنڈے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

غزہ کی حکمران اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی اپیل پر آج مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم کے خلاف یوم الغضب منایا جارہا ہے۔اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون نے جمعرات کو اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ دوماہ کے دوران آٹھ سو سے زیادہ فلسطینیوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔