ایران کے مزید کئی فوجی افسر بشارالاسد پر قربان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام کے محاذ جنگ پر صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے ایرانی فوجیوں، افغان اور پاکستانی اجرتی قاتلوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ شام کے شمالی شہر حلب میں پچھلے چند ایام میں ایرانی فوج کے مزید کئی سینیر عہدیدار باغیوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ایام میں حلب میں بشارالاسد پراپنی جان نثار کرنے والے ایرانی فوجیوں میں 27 سالہ افسر میثم نفجی کا نام سامنے آیا ہے۔ میثم پاسداران انقلاب کے محمد رسول اللہ بریگیڈ سے وابستہ تھے۔ اطلاعات یہ ہیں ہیں کہ میثم نجفی چند روز پیشتر حلب میں ایک گولے کا چھرہ لگنے سے شدید زخمی ہوئے تھے اورا نہیں وہاں سے تہران منتقل کیا گیا تھا۔ زخمی ہونے کے بعد میثم مسلسل کومے میں رہے اور گذشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔

حالیہ ایام میں شام میں محمد احمد جوان نامی ایک ایرانی فوجی افسر ہلاکت کی صدیق کی ہوئی ہے۔ احمدی جوان کا آبائی تعلق تنکستان شہر کے باشی قصبے سے تھا اور وہ بوشھر نامی علاقے میں قائم پاسداران انقلاب کی ایک یونٹ سے وابستہ رہے تھے۔

شام میں ہلاک ہونے والے ایرنی فوجیوں میں فرسٹ سارجنٹ مجتبیٰ زکوی کے علاوہ الحسین بریگیڈ کے کمانڈر عبدالرشید رشوند اور بریگیڈیئر عبدالرضا مجیری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہفتے کے روز "مشرق" نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جنوبی ایران کے بندر عباس شہر میں عبدالحمید سالاری نامی ایک فوجی افسر کو سپرد خاک کیا گیا۔ سالاری بھی شام کے شہر حلب میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔

خبر رساں اداروں نے ایک دوسرے ایرانی فوجی افسر کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ رضا مولائی نامی ایک فوجی عہدیدار سنہ 1980ء تا 1988ء کی عراق۔ ایران جنگ میں بھی شریک رہے ہیں۔ ان کے علاوہ قزوین شہر کے حمید سیاھکالی اور رودبار شہر کے پرویز بامری بور نامی دو ایرانی اجرتی قاتل بھی شام میں ہلاک ہوئے ہیں۔

شام میں بشارلاسد کی حمایت میں ایران کی سرپرستی میں لڑنے والے اجرتی قاتلوں میں بڑی تعداد افغان اور پاکستانی جنگجوئوں پر بھی مشتمل ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حال ہی میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے چار اجرتی قاتل بھی حلب میں ہلاک ہوئے۔ یہ چاروں "فاطمیون" نامی ایک نجی ملیشیا سے وابستہ تھے۔ ان کی شناخت ابراہیم رضائی، رشید رحیمی، ذاکر حیدری اور حبیب شاہ رضائی کے ناموں سے کی گئی ہے۔ سات دوسرے پاکستانی اور غیرملکی جنگجوئوں کا تعلق "زینبیوں " ملیشیا سے تھا۔ ان کی شناخت کام حسین، جاوید حسین، مبین علی، مطہر حسین، مظاہرحسین، شفیق حسین اور اعتزاز حسین کے ناموں سے کی گئی ہے اور انہیں ایران کے قم شہر میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کےذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ سنہ 2011ء کے بعد سے شام کے محاذ جنگ پر بشارالاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے 500 ایرانی فوجی اور دیگر جنگجو ہلاک ہو چکےہیں۔ ان میں 30 سینیر فوجی افسران بھی شامل ہیں۔ آزاد ذرائع شام میں ہلاک ہونےوالے ایرانی فوجیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بیان کرتے ہیں۔ اکتوبر میں شام میں روسی فوج کی کارروائیوں کے بعد ایرانی فوجیوں اور جنگجوئوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دو ماہ میں 188 ایرانی فوجی اہلکاروں، افسر اور غیر سرکاری جنگجو ہلاک ہو چکےہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں