تیونس: حکومت نے ایمرجنسی میں دو ماہ کی توسیع کردی
#تیونس کی حکومت نے نومبر میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی میں توسیع کرتے ہوئے اسے 21 فروری تک بڑھا دیا ہے۔
تیونس کے آئین کے مطابق ایمرجنسی کی حالت میں صدارتی دفتر اور مسلح افواج کو مزید اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں اور کچھ عوامی حقوق منسوخ کردئیے جاتے ہیں۔ صدارتی دفتر کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ایمرجنسی میں توسیع کا فیصلہ وزیر اعظم اور سپیکر پارلیمنٹ سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔
تیونس کے صدر بیجی قائد السبسی نے پچھلے ماہ کے دوران دارالحکومت میں خودکش حملے کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ یہ حملہ حالیہ سال میں ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا جس میں 12 صدارتی گارڈز ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے تیونس میں اسلام پسند شدت پسندوں نے غیر ملکی سیاحوں پر دو حملے کئے تھے جس کے نتیجے میں 59 سیاحوں سمیت 60 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
-
تیونس: خودکش بمبار کی شناخت، 30 مشتبہ افراد گرفتار
تیونس میں حکام نے دارالحکومت میں صدارتی محافظوں کی بس پر خودکش حملہ کرنے والے ...
بين الاقوامى -
تیونس نے لیبیا کے ساتھ اپنی سرحد سیل کر دی
سوشل میڈیا کی بھی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی
بين الاقوامى -
داعش نے تیونس میں بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی
عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے تیونس میں ...
بين الاقوامى -
تیونس : بس پر بم حملے میں 12 صدارتی محافظ ہلاک
صدر الباجی قائد السبسی نے ملک میں 30 روز کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی
بين الاقوامى -
تیونس نے 'تاریخی' انسداد دہشت گردی قانون منظور کرلیا
تیونسی پارلیمان نے ایک نیا انسداد دہشت گردی قانون منظور کیا ہے جس کے ذریعے سے داعش ...
بين الاقوامى -
تیونس میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی
تیونس کے شہر سوسہ میں دہشت گردوں کے سیاحتی مقام پر 26 جون کو کئے جانے والے حملے ...
بين الاقوامى