.

ایران اور سعودی عرب کے سفارت خانوں میں فرق ملاحظہ کیجیے

’تصویریں دونوں ملکوں کی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں رواں ہفتے کے آغاز میں سینتالیس ملک دشمن عناصر کو پھانسی کی سزائیں دینے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات منطقع ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی گرما گرم بحث جاری ہے۔ سماجی کارکنوں نے ایران میں نذرآتش کیے گئے سعودی سفارت خانے اور ریاض میں صحیح وسالم ایرانی سفارت خانے کی تصاویر کو ایک ساتھ جوڑ کر ایران کی مکروہ پالیسی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر کو بڑے پیمانے پر پسند کیا گیا ہے اور انہٰیں مسلسل شیئر کیا جا رہا ہے۔ دائیں طرف تہران میں قائم سعودی سفارت خانے کی عمارت کی تصویر ہے جس کا بیرونی حصہ آگ لگنے سے نہ صرف جلا ہوا دیکھا جا سکتا ہے بلکہ دھوئیں سے سیاہ ہے اور اس پر سعودی عرب کا قومی پرچم بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔ دوسری جانب ریاض میں صحیح وسلامت ایرانی سفارت خانے کی تصویر ہے۔ ایرانی سفارت خانے کے قرب وجوار میں کھجور کے اونچے اونچے درخت ہیں اور عمارت کی چھت پر ایران کا قومی پرچم بھی لہرا رہا ہے۔

یہ دونوں تصاویر دونوں ملکوں کی پالیسیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایران میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے کی زبوں حالی ایرانی حکومت کی نفرت پر مبنی پالیسیوں کی عکاس ہے جب کہ دوسری جانب سعودی عرب میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ریاض تمام تر اختلافات کے باوجود کسی بھی دوسرے ملک کے سفارت خانے یا سفارتی عملے کو زک پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا اور سفارتی آداب اور قرینوں کی سختی سے پابندی کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایران کی سفارت خانوں کے خلاف پالیسی اور شرپسندوں کو کھلی چھٹی دیے جانے پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ سعودی اور ایرانی سفارت خانوں کی تصاویر کے ذیل میں آنے والے تبصروں میں ایرانی حکومت کو تخریب کار اور انتشار پسند قرار دیتے ہوئے سفارت خانے پر حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ تصویر پر رائے کا اظہار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایران میں سعودی سفارت خانے پر بلوائیوں کے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت بلوائیوں اور شرپسندوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔