.

لبنانی ہوائی اڈے خطے میں ایرانی مداخلت کے دروازے!

’ہوائی اڈوں کی ناقص سیکیورٹی سے داعش فائدہ اٹھا سکتی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر مقام بیروت کے بین الاقوامی ہوائی پر ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے عناصر کی سرگرمیوں نے لبنان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کی ہے۔ ہوائی اڈے کے امور میں حزب اللہ کی مداخلت نہ صرف اس لیے باعث تشویش ہے کہ تنظیم مسافر اور مال بردار طیاروں کے ذریعے اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث ہو سکتی ہے بلکہ حزب اللہ کے طریقہ واردات سے دولت اسلامی’’داعش‘‘ جیسے شدت پسند گروپ بھی مداخلت کرتے ہوئے دہشت گردی کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک ہفتہ پیشتر لبنانی رکن پارلیمنٹ احمد فتفت نے انکشاف کیا تھا کہ لبنان کے جن ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر حزب اللہ کا کنٹرول ہے وہاں سے سامان سے لدے کنٹینروں کی کوئی خاص تلاشی اور چیکنگ نہیں کی جاتی اور پانچ سو ڈالر وصول کر کے ہر کنیٹیر کو وہاں سے گذرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔

انہوں نے حزب اللہ پر متوازی نظام معیشت چلانے اور لبنان میں اپنی مخصوص حکومت قائم کیے رکھنے کا بھی الزام عاید کیا۔

جہاں تک بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں حزب اللہ کی مداخلت کا معاملہ ہے تو وہ بھی کم باعث تشویش نہیں۔ حزب اللہ کئ سرگرمیاں لبنانی عوام کے لیے پریشانی کا موجب بن رہی ہیں کیونجہ تنظیم ہوائی اڈے سے اسلحہ کی منتقلی اور دیگر ممنوعہ سامان کی اسگلنگ کر سکتی ہے۔

بیروت ہوائی اڈے پر کام کرنے والے ایک نوجوان جس کا چہرہ اس کی شناخت چھپانے کے لیے ظاہر نہیں کیا گیا ہے نے ایک ویڈیو فوٹیج میں کہا ہے کہ اس نے اسلحہ سے لدے ایرانی جہاز رفیق حریری ہوائی اڈے پر خالی ہوتے خود دیکھے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ ایران سے آنے والے جہازوں کی چیکنگ نہیں کی جاتی جس کے نتیجے میں ان جہازوں میں آنے والا اسلحہ لبنان کے سیکیورٹی اداروں کے بجائے جنگجو گروپوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ پوری تسلی اور پلاننگ کےتحت جاری ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ لبنان کے بیروت ہوائی اڈے اور رفیق حریری ہوائی اڈے میں باہر سے آنے والے جہازوں بالخصوص ایرانی جہازوں کو تلاشی کے عمل سے نہ گذٓارا جانا حزب اللہ کی مبینہ مداخلت کی عکاسی کرتا ہے۔

لبنان کے ہوائی اڈوں پر جہازوں کے لیے درکارعالمی معیار کی سیکیورٹی کے نہ ہونے کے باعث کئی فضائی کمپنیاں اپنی پروازیں معطل کرنے اور لبنان سے بیرون ملک سامان لے جانے سے انکار بھی کر چکی ہیں۔

پچھلے سال فروری میں ’’برٹش ایئرویز‘‘ نے رفیق حریری ہوائی اڈے پر سیکیورٹی کی غیر تسلی بخش صورت حال کے باعث ہاں سے سامان لے جانے سے انکار کر دیا تھا۔

ہوائی اڈوں پر حزب اللہ جیسے گروپوں کی مداخلت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیکیورٹی مسائل سیاحوں کی آمد ورفت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا خطرہ دہشت گرد گروپوں کی جانب سے ہے جو اپنے خطرناک عزائم کی تکمیل کے لیے حالات سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لبنان پہلے ہی داعش کے نشانے پر رہا ہے۔ اگر ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات نہ کیے گئے اور حالات کو حزب اللہ کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا تو بعید نہیں کہ داعش ہوائی اڈوں کے ذریعے لبنان میں اپنے دہشت گرد اور خطرناک اسلحہ بھی پہنچا سکتی ہے۔ لبنان میں ہوائی اڈے ہی مسافروں اور سیاحوں کی آمد ورفت کا ذریعہ ہیں۔ جب سے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی معاملات میں حزب اللہ کی مداخلت کی خبریں آنا شروع ہوئی ہیں غیرملکی سیاح بھی محتاط ہونے لگے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بیروت ہوائی اڈے کے سیکیورٹی انچارج کرنل جارج ضومط سے بات کی اور رکن پارلیمنٹ احمد فتفت کے بیان اور یوٹیوپ پر پوسٹ کردہ فوٹیج میں شہریوں اسلحہ کی اسمگلنگ سے متعلق شہادتوں پر ان کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کی گئی توانہوں نے بھی تسلیم کیا کہ ہوائی اڈے پر سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ کمزوریاں پائی جاتی ہیں تاہم انہیں دور کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔

لبنانی میڈیا اور عوامی سطح پر ہوائی اڈوں کی غیرتسلی بخش سیکیورٹی پر پائے جانے والے خوف پر لبنانی حکام خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

بیروت ہوائی اڈا ۔۔۔ پاسداران انقلاب کے داخلے کا دروازہ ؟

لبنان کے بعض سیاسی اور ابلاغی حلقوں کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف عاید کیے جانے والے الزامات میں ایک اہم الزام یہ بھی ہےکہ حزب اللہ نے ہوائی اڈے کے تمام گودام یونٹ نمبر8000 اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ماتحت دوسرے ملکوں میں سرگرم ’’القدس ایلیٹ‘‘ فورس کے لیے کھول رکھے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والا اسلحہ اور گولہ بارود ان گوداموں میں چھپایا جاتا ہے اور وہاں سے ملک کے دوسرے مقامات پر پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیروت ہوائی اڈہ طویل عرصے سے پاسداران انقلاب کی آمد ورفت کا ایک اہم دروازہ بن چکا ہے جہاں سے ایرانیوں کو نہ صرف لبنان میں داخل ہونے کا با آسانی موقع ملتا ہے بلکہ بیروت سے ہوتے ہوئے ہوئے وہ خطے کےدوسرے ملکوں میں داخل ہوتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے اپنے ماتحت’’یونٹ 8000‘‘ کو رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی ڈے میں بھی اپنی سرگرمیوں کے ارتکاز کی پوری سہولت دے رکھی ہے۔ انہی ہوائی اڈوں سے حزب اللہ کی فراہم کردہ سہولیات کی بدولت ایرانی نہایت آسانی کے ساتھ لبنان میں قدم رکھتے ہیں۔ بعد ازاں وہاں سے ملک بھر میں پھیل جاتے ہیں۔ ’’یونٹ 8000‘‘ کے اہلکار ہوائی اڈوں پر لائے گئے اسلحہ اور نان کسٹمز فوجی سازو سامان کو مخصوص مقامات پر منتقل کرتے اور وہاں سے اسے اگلی منزلوں تک پہنچاتے ہیں۔

لبنان میں عوامی سطح پر یہ خدشات تیزی کے ساتھ تقویت پکڑ رہے ہیں کہ ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی امور میں حزب اللہ کی مداخلت سے داعش فائدہ اٹھا کر ملک میں دہشت گردی پھیلانے کا موجب بن سکتی ہے۔