عوامی ریفرنڈم کے بغیر اسرائیل سے مذاکرات نہیں ہوں گے: ابومازن
اسرائیل نے دو طرفہ سمجھوتوں پرعمل درآمد نہیں کیا
فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ جب تک پوری فلسطینی قوم ایک ریفرنڈم کی شکل میں اسرائیل سے مذاکرات کی بحالی کی حمایت نہیں کرتی تب تک صہیونی ریاست سے مذاکرات نہیں ہو سکتے ہیں۔
العربیہ کے مطابق صدر محمود عباس نے ان خیالات کا اظہار رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر میں مقامی اور عرب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ۔ فلسطین کشمکش کے سیاسی حل کے لیے جب فلسطینی قوم اجازت دے گی تو بات چیت کی جائے گی۔ اندرون اور بیرون ملک مقیم فلسطینی شہری جب ریفرنڈم کی شکل میں اسرائیل سے بات چیت کی بحالی کی حمایت کریں گے صہیونی ریاست کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔
صدر عباس نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اب تک 20 سمجھوتے طے پائے ہیں مگران پر یک طرفہ عمل درآمد ممکن نہیں دو طرفہ معاہدوں پرعمل درآمد فریقین کی ذمہ داری ہے مگر اسرائیل ان معاہدوں عمل درآمد سے گریز کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے سال اگست میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے سنہ 2003ء میں یاسر عبد ربہ کی زیرنگرانی قائم ایک تھینک ٹینک بند کر دیا تھا۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم اس ادارے کو یورپی یونین کی جانب سے فنڈز فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔
-
فلسطین میں متوازی حکومتیں نہیں چل سکتیں: محمود عباس
حماس کی پالیسیوں سے قومی حکومت میں شراکت ختم ہو سکتی ہے
مشرق وسطی -
فلسطینی مخلوط حکومت نے حلف اٹھا لیا
مسئلہ فلسطین کو نقصان پہنچانے والی خلیج ختم ہو گئی: محمود عباس
مشرق وسطی -
فلسطین کی مبصر حیثیت کے باوجود محمود عباس مضبوط اتحادی ہیں پیریز
ابو مازن کو یو این نہ جانے کا مشورہ دیا تھا
مشرق وسطی