لبنانی سیاست دانوں کی ہلاکتوں میں شامی انٹیلجنس کے ملوث ہونے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں امن و امان سے متعلق واقعات اور حادثات پر سے پراسراریت کے پردے ہٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سیکورٹی حکام کو انتہائی مطلوب شدت پسند نعیم عباس نے فوجی عدالت کے سامنے مزید اعترافات کیے ہیں۔ ان اعترافات میں نمایاں ترین امر اس بات کا انکشاف ہے کہ شامی انٹیلجنس لبنان میں سیاسی شخصیات کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے اور لبنان میں ہلاکتوں کی کئی کارروائیوں کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہے۔

نعیم عباس کے مطابق رکن پارلیمنٹ ولید جنبلاط نشانہ بنائی جانے والی شخصیات کی فہرست میں ایک اہم ہدف تھے۔ شامی انٹیلجنس نے 2010 میں "عبدالله عزام" بریگیڈز کے ایک کمانڈر توفيق طه سے جنبلاط کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

جنرل فرانسوا الحاج کو 2007 میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کی ہلاکت میں سرکاری طور پر شام کا ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا تھا۔ تاہم عباس کے اعترافات کے مطابق شام فرانسوا کو فریب خوردہ شخصیت شمار کرتا تھا اور اس نے ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ نعیم عباس متعدد شدت پسند تنظیموں میں شامل رہا جب کہ اس کے کئی نام اور کئی عرفیتیں ہیں۔ وہ لبنانی، شامی اور فلسطینی شناختی دستاویزات بھی رکھتا ہے۔ اس نے اپنی وابستگی کا سفر "الجہاد الإسلامی" تنظیم سے شروع کیا۔ اس دوران "حزب الله" سے تعلقات استوار ہونے کے بعد اس نے کچھ عرصہ ایران میں بھی تربیت حاصل کی۔ نعیم عباس دھماکا خیزمواد اور بموں کی تیاری کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ وہ 2014 میں بیروت میں اپنی گرفتاری سے قبل لبنانی دارالحکومت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں کئی دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ رہا۔

نعیم عباس کی گرفتاری کے بعد اس طرح کی خبریں بھی گردش میں رہیں کہ 2007 میں جنرل فرانسوا الحاج اور رکن پارلیمنٹ ولید عیدو کی ہلاکتوں کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔ لبنانی سیکورٹی حکام کے ہاتھ آنے والے اس قیمتی شکار کی اہمیت اس وقت کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے جب سابق وزیراعظم رفیق الحریری کی ہلاکت سے متعلق تفصیلات کا انکشاف ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں