.

بشار الاسد کا ایرانی ملاؤں کی پگڑی میں کارٹون

ہیکروں نے شامی صدر کے چاہنے والوں کو آگ لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیکرز وہ عجیب وغریب کردار ہیں جنہوں نے عرصہ دراز سے دنیا بھر کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں بعض نامعلوم ہیکرز نے اقتدار پر زبردستی براجمان شامی صدر بشار الاسد کا ایک مضحکہ خیز کارٹون پوسٹ کیا ہے۔ شامی صدر کے چاہنے والوں کے ایک مشہور ویب پیج پر پوسٹ کیے جانے والے کارٹون میں بشار الاسد کو وہ پگڑی پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے جو ایران میں ملا حضرات پہنتے ہیں... اور ساتھ ہی یہ تحریر بھی لکھی گئی ہے "ایران کی حجت شیطان بشار الاسدی"۔

یاد رہے کہ بشار حکومت کے انتہائی ہمنوا شمار کیے جانے والے ویب پیج پر مذکورہ کارٹون پوسٹ کرنے والے ہیکروں نے شامی صدر کا ایک دوسرا کارٹون بھی نشر کیا ہے... جس میں انہیں اپنی فوجی وردی کے بغیر دکھایا گیا ہے اور وہ وردی کو پیٹھ دکھا کر بھاگ رہے ہیں ... اس کارٹون کو "پھوٹ" کا عنوان دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ ویب پیج شامی اپوزیشن کے عناصر کا نشانہ بنتا رہا ہے جو کئی مرتبہ اس کو ہیک کرنے اور اس پر مکمل قبضہ جمانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ ماہ اس ویب پیج کو ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں تین مرتبہ ہیک کیا گیا۔

کارٹون میں بشار الاسد کو ایرانی ملاؤں کی پگڑی میں دکھانے کا مقصد اس حقیقت کا اظہار ہے کہ شامی صدر مکمل طور پر ایران کے حکمرانوں کے آگے سر جھکا چکے ہیں۔ ساتھ ہی کارٹون میں تحریر تبصرے میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بشار الاسد اس درجے تک پہنچ گئے ہیں جہاں ان کو اسی طور "رتبہ" ملا ہے جس طرح انتہا پسند ریاست (ایران) میں بڑے ملاؤں اور مذہبی شخصیات کو ملتا ہے۔

ایران کی معروف یونی ورسٹی پروفیسر آذر نفیسی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "میں جن چیزوں کے بارے میں خاموش تھی" میں لفظ "ملا" کی مخصوص تعریف پیش کی ہے۔ وہ اپنی کتاب کے صفحہ 472 پر لکھتی ہیں : "ملا ایک اسلامی خطاب ہے جو ایران میں مقامی مسلم مذہبی شخصیات یا مساجد کے سربراہوں کے لیے بولا جاتا ہے ... اس کے علاوہ یہ اس مسلم مذہبی شخصیت کی کسر شان کے طور پر بولا جانا والا خطاب بھی ہوسکتا ہے جس نے مطلوبہ (دینی) تعلیم حاصل نہیں کی یا پھر مذہبی شخصیات کے ڈھانچے میں اس کا کوئی مناسب مقام نہ ہو"۔