عرب صحافی و دانشور محمد حسنین ہیکل اب نہیں رہے

آنجہانی سوشلسٹ صدرجمال عبدالناصر کے ایک اہم ساتھی تصور کیے جاتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

معروف عرب صحافی محمد حسنین ہیکل بانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ گردے کے بیماری میں مبتلا ہیکل قاہرہ کے ایک ہسپتال میں داخل کرائے گئے تھے لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

سیاسی موضوعات پر طبع آزمائی کرنے کی وجہ سے شہرت پانے والے ہیکل پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں قاہرہ حکومت کے بڑے حامی تھے۔ جمال عبدالناصر کے دور حکومت میں ہیکل ان کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔ اس دور میں ہیکل سوشلسٹ صدر ناصر کے ایک اہم ساتھی تصور کیے جاتے تھے۔

ناصر کے قریبی دوست ہونے کی وجہ سے ان کے نظریات نے مصر بھر میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔ بعد ازاں ان کی سیاسی بصیرت کی وجہ سے ان کا چرچا علاقائی سطح پر پھیل گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق وہ نہ صرف سیاسی موضوعات پر مہارت رکھتے تھے بلکہ اسلامی علوم سے بھی انہیں خاص شناسائی تھی۔

سن 1970 میں ناصر کے انتقال کے بعد اقتدار میں آنے والے نئے صدر انور سادات نے ہیکل کو نظر انداز کر دیا تھا۔ حکومتی تبدیلی بھی ہیکل کی سیاسی ہمدردی کو بدلنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی، جس کی وجہ سے 1981ء میں ہیکل اور کئی دیگر سیاسی ناقدین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کر دیا گیا۔

جب حسنی مبارک نے صدر کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے ہیکل کو رہائی دلوا دی لیکن انہوں نے اپنے انتیس سالہ دور اقتدار میں ہیکل کو ایک خاص دوری پر ہی رکھا۔

ہیکل نے مجموعی طور پر چالیس کتابیں تحریر کیں، جن میں انہوں نے مصر کے سیاسی حالات کا احاطہ بھی کیا۔ وہ اس دور میں صدر مبارک کے بھی ایک بڑے ناقد رہے۔ سیرتِ نبوی پر ایک شاہکار کتاب ’حیاتِ محمد‘ نے انہیں بالخصوص برصغیر میں ایک نئی شناخت بخشی۔ اس کتاب کو تنقیدی حلقوں میں بھی بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں