.

عراق : حلّہ میں خودکش بم دھماکا ، 47 افراد ہلاک

داعش نے جنوبی شہر میں تباہ کن ٹرک بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد سے جنوب میں واقع شہر الحلّہ میں خودکش ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں سینتالیس افراد ہلاک اور کم سے کم ستر زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق حملہ آور بمبار نے بارود سے لدے ایک ٹرک کو حلّہ کی ایک داخلی گذرگاہ پر قائم سکیورٹی چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑایا ہے۔مرنے والوں میں انتالیس شہری اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہیں۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس تباہ کن خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے اور اس نے آن لائن لائن جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ بم دھماکے میں دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔داعش اور دوسرے جنگجو گروپ عراقی سکیورٹی فورسز اور سرکاری عمارتوں پر اس طرح بارود سے لدی گاڑیوں کے ذریعے بم حملے کرتے رہتے ہیں۔

عراقی پولیس کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے حلّہ شہر کی جانب آنے والی ایک شاہراہ پر قائم چیک پوائنٹ پر اتوار کی دوپہر اپنے بارود سے بھرے ٹرک کو دھماکے سے اڑایا ہے۔اس وقت وہاں گاڑیوں کا رش لگا ہوا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ بم دھماکے میں پینسٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں اور قریباً پچاس کاریں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔الحلّہ بغداد سے قریباً پچانوے کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور صوبہ بابل کا دارالحکومت ہے۔

عراق میں گذشتہ ماہ تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں خودکش بم حملوں میں ایک سو ستر سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے ان تمام بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ ماہ عراق میں تشدد کے واقعات میں چھے سو ستر افراد ہلاک ہوئَے تھے۔ان میں دو تہائی عام شہری تھے۔عراقی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیائیں مغربی صوبے الانبار میں داعش کے خلاف کارروائی کررہی ہیں اور الرمادی شہر کو واگزار کرانے کے بعد اب شمالی شہر موصل میں داعش کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تیاری کی جارہی ہے۔

داعش الانبار سے اپنی شکست اور پسپائی کا بدلہ چکانے کے لیے اب کار یا ٹرک بموں سے عراقیوں پر حملے کررہے ہیں۔وہ بارود سے بھری کاروں کے ذریعے عراقی فورسز کی دفاعی لائن میں شگاف ڈالنے یا پھر کسی علاقے پرقبضے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بظاہر ان کی پیش قدمی رُک چکی ہے کیونکہ عراقی فورسز ایک جانب ان کے خلاف زمینی کارروائی کررہی ہیں اور دوسری جانب امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے ان پر فضائی حملے کررہے ہیں۔اس فضائی بمباری کے نتیجے میں ان کی آزادانہ نقل وحرکت محدود ہوچکی ہے۔