.

لبنان کو مملکت سے خیر کے سوا کچھ نہ ملے گا : سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں سعودی عرب کے سفیر علی عواض عسيری کا کہنا ہے کہ "لبنان کے ساتھ حالیہ اختلاف کی وجوہات سب جانتے ہیں.. تاہم جو کچھ ہوا وہ دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات کے شایان شان نہیں"۔ انہوں نے باور کرایا کہ "سعودی عرب لبنانی تاجروں اور کاروباری شخصیات کے لیے سب سے بہتر مقام تھا اور رہے گا اور مملکت کے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے.. میں لبنانیوں کو سعودی عرب میں منصوبوں میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں اس لیے کہ یہ منافع بخش سرمایہ کاری ہے"۔ سعودی سفیر نے واضح کیا کہ "مملکت کی طرف سے لبنان کو ہمیشہ خیر اور بھلائی ہی پہنچے گی"۔

"الاقتصاد والاعمال" جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے عسیری کا کہنا تھا کہ ان کے گمان کو "بعض لبنانیوں نے خاک میں ملا دیا جنہوں نے لبنان میں سعودی عرب کے وجود کو یکسر بھلا دیا.. میں ایسے لوگوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ لبنان سے اسی طرح پیار کریں گے جیسا کہ ہم کرتے ہیں.. اور وہ ہر اس کام سے بچیں گے جس سے ان کے ملک کو سیاسی، اقتصادی اور امن و امان کے لحاظ سے نقصان پہنچ سکتا ہے"۔

سعودی سفیر کے خیال میں "لبنان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی جغرافیے سے منفی طور پر متاثر ہوتا ہے نا کہ مثبت طور پر.. اس صورت حال کی ذمہ داری ان سیاسی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو بیرون سے طاقت حاصل کرتی ہیں"۔

صدارتی خلاء

لبنان میں صدارتی خلاء کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد کے لیے سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے عسیری کا کہنا تھا کہ "مملکت ناموں کے ساتھ مداخلت نہیں کررہی مگر وہ بھلائی کی کوشش ضرور کررہی ہے.. صدارتی محل کو خالی دیکھ کر مملکت کو بہت افسوس ہوتا ہے اور اس نے اس بات پر سخت عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے کہ "آئین کا محافظ" قصر ِ بعبدا میں موجود نہیں ہے"۔

انہوں نے لبنانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے لیے مناسب صدر کا انتخاب کریں اور یہ صرف ان کی اپنی ذمہ داری ہے کیوں کہ جو فیصلہ لبنان کے اندر سے ہوگا وہ پائیدار اور مستقل ہوگا۔

عسیری کے مطابق " لبنان حیرتوں سے بھرپور ملک ہے اور کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ وہاں سیاسی فضا کیسی ہوگی.. لبنان میں سیاست برطانیہ کے موسم کی طرح ہے"۔

سعودی سفیر نے لبنان میں تنوع کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ "عرب مسیحی اور فرقوں اور مسلکوں کا یہ امتزاج.. یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے لبنان کے امتیازی تشخص میں اہم کردار ادا کیا ہے"۔