سعودی عرب میں دھڑ جڑی پاکستانی بچیوں کا کامیاب آپریشن
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دھڑ جڑی دو پاکستانی بچیوں فاطمہ اور مشعال کو الگ کرنے کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔ بچوں کے لیے مخصوص کنگ عبداللہ ہسپتال میں ہونے والا یہ آپریشن تقریبا 5 گھنٹے تک جاری رہا۔
جڑواں بچیوں کو علاحدہ کرنے کا یہ آپریشن ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کی سربراہی میں شروع ہوا۔ چھ مرحلوں پر مشتمل اس پیچیدہ آپریشن میں بیس ڈاکٹر اور طبی ماہرین شریک ہوئے۔
ڈاکٹر الربیعہ نے واضح کیا کہ دونوں بچیوں کے متعدد طبی معائنے اور ٹیسٹ کیے گئے۔ یہ دونوں بچیاں سینے اور پیٹ سے جڑی ہوئی تھیں اور ان کا مجموعی وزن 20 کلوگرام تھا۔ انہوں نے کہا کہ" اللہ کے فضل سے آپریشن پوری طرح کامیاب رہا۔ میرا ساتھ دینے والی طبی ماہرین کی ٹیم بیس برس سے زیادہ کا پیشہ ورانہ تجربہ رکھتی ہے۔ مملکت میں قومی سطح کا یہ پروگرام دنیا کے سب سے بڑے پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے"۔
واضح رہے کہ دھڑ جڑی پاکستانی بچیاں (مشاعل اور فاطمہ) خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی ہدایت پر کچھ روز قبل ریاض پہنچی تھیں۔ شاہ سلمان نے بچیوں اور ان کے والدین کی میزبانی کا حکم جاری کیا تھا تاکہ ان بچیوں کے تفصیلی معائنے اور ٹیسٹ کے بعد ان کی علاحدگی کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ بچیوں کے ریاض پہنچنے کے فوری بعد انہیں نیشنل گارڈز کے کنگ عبداللہ میڈیکل سٹی میں بچوں کے لیے مخصوص کنگ عبداللہ ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا تھا۔
-
''سعودی خواتین خاوند کی اجازت کے بغیر آپریشن کرا سکتی ہیں''
سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی ایک رکن مونا المشیت نے کہا ہے کہ خواتین کو موجودہ ...
ایڈیٹر کی پسند -
’داعش، عراقی فوج کو رمادی سے نہیں نکال سکتی‘
رمادی آپریشن کے لیے 16 ہزارعراقی فوجیوں کو تربیت دی گئی: اسٹیو وارن
مشرق وسطی -
برطانیہ کی یمن آپریشن میں سعودی فوج کی معاونت
عرب اتحاد سے تعاون عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں: ہمونڈ
مشرق وسطی