.

لبنان : سابق وزیر میشیل سماحہ کو 13 سال قید بامشقت !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں فوجی عدالت نے سابق وزیر میشیل سماحہ کو 13 سال قید با مشقت اور شہری حقوق سے محرومی کی حتمی سزا سنادی ہے۔ سماحہ پر سیاسی اور مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کی غرض سے دھماکا خیز مواد شام سے لبنان منتقل کرنے کا الزام تھا۔

عدالتی فیصلے کے فوری بعد سابق وزیراعظم سعد الحریری نے ٹوئیٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "دہشت گرد سماحہ کی آج پھر سے جیل واپسی ہوگئی جو کہ ہر اس شخص کا حقیقی مقام ہے جو بے قصور لوگوں کے قتل اور لبنان کو خانہ جنگی میں گھسیٹنے کی منصوبہ بندی کرے۔ فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ عدالتی کارروائی اور شفاف رائے عامہ ہی سیاسی اثرورسوخ سے دور انصاف کا صحیح راستہ ہے"۔

دوسری جانب وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ "فوجی عدالت کا فیصلہ ٹریبونل کے سربراہ اور ارکان پر ہمارے اعتماد کی تصدیق کرتا ہے"۔

لبنان کی فوجی عدالت نے 14 جنوری کو متفقہ طور پر 15 کروڑ لبنانی لیرا (تقریبا 1 لاکھ ڈالر) کی مالی ضمانت کے بدلے میشیل سماحہ کی رہائی کا فیصلہ کیا تھا اس وضاحت کے ساتھ کہ مقدمے کی سماعت جاری رہے گی۔ اگرچہ ملک کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے سماحہ کی رہائی کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا تاہم اس نے باور کرایا تھا کہ حتمی فیصلہ فوجی عدالت کو کرنا ہے۔ فوجی عدالت نے اپنے طور سماحہ کو رہا کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ ملزم حراست کے بغیر ہی آئندہ سماعتوں میں پیش ہوگا۔

یاد رہے کہ سابق وزیر میشیل سماحہ کو اگست 2012 میں حراست میں لے کر فوجی عدالت میں پیش کردیا گیا تھا۔ ان پر شام کے سیکورٹی ادارے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل علی مملوک اور ان کے دفتر کے ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر "گولہ بارود شام سے لبنان منتقل کرنے کی" منصوبہ بندی کرنے کا الزام تھا۔ اس کارروائی کا مقصد لبنان کی سیاسی اور شام کی مذہبی شخصیات کو قتل کرنا تھا۔