.

شام میں روسی مداخلت ایران کی مرہون منت !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یرانی اخبار "کیھان" کے مطابق شام میں روس کی مداخلت درحقیقت ایران کی جانب سے سرکاری طور پر پیش کی گئی درخواست کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ یہ انکشاف روسی مداخلت کے حوالے سے کرملن کے بیانات کے برخلاف ہے۔ واضح رہے کہ "كيهان" اخبار کو ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے مشیر حسین شریعتمداری چلاتے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ایک تھنک ٹینک کے سربراہ سعد اللہ زارعی نے کیھان اخبار میں شائع ایک آرٹیکل میں بتایا کہ روس نے ایران کے ایک فوجی وفد کے دورہ ماسکو کے دو روز بعد اپنی افواج شام بھیجیں۔ ایرانی وفد کی جانب سے فضائیہ اور میزائل سے متعلق فورس شام بھیجے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب روس کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ شامی اراضی میں روس کی فوجی مداخلت کا آغاز 30 ستمبر 2015 کو ہوا۔ اس سے قبل شامی صدر بشار الاسد نے ماسکو سے فوجی مداخلت کا مطالبہ کیا تھا اور روسی پارلیمنٹ کے ایوان بالا رشیئن فیڈریشن کونسل نے صدر ولادیمر پوتن کو ملک سے باہر روسی مسلح افواج کے استعمال کا اختیار تفویض کردیا تھا۔

زرائع کے مطابق ایران کی جانب سے یہ مطالبہ بشار حکومت اور شام میں اس کے عسکری حلیفوں کو پہنچنے والے "دھچکے" کی وجہ سے کیا گیا۔ یہ دھچکا اِدلب شیخ مسکین اور بعض دیگر علاقوں میں شامی اپوزیشن کی فورسز کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کا نتیجہ تھا۔

ایرانی تجزیہ کار زراعی نے انکشاف کیا کہ ان کا ملک شام کے وسطی، شمالی اور جنوب علاقوں میں لڑائی کو براہ راست کنٹرول کررہا ہے۔ یہ انکشاف ایرانی حکام کے ان بیانات کے متضاد ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی شرکت صرف "مشاورتی عمل" کی حد تک ہے۔

پاسداران انقلاب کے زیرانتظام تھنک ٹینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران طویل عرصے سے بشار الاسد اور اس کے ہمنواؤں (حزب اللہ وغیرہ) کو "اسٹریٹجک ہتھیار" فراہم کررہا ہے تاکہ شام میں لڑائی کا سلسلہ جاری رہے۔

اس سے قبل ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی کی جانب سے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا جانے والا انکشاف زارعی کے روسی ایرانی تعاون سے متعلق بیان کی تائید کرتا ہے۔ ولایتی نے شام میں بشار الاسد کی سپورٹ میں روس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ " تہران کو دنیا بھر میں روس جیسا قابل اعتماد اور قریبی شراکت دار نہیں ملے گا"۔