حوثی وفد ایران میں، کویت مذاکرات سبوتاژ کرنے کی سازش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

صنعاء میں یمنی ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی حلیف قوتوں کا ایک وفد ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گیا ہے۔ یہ اطلاع کویت میں یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات کے آغاز سے چند روز قبل سامنے آئی ہے۔ وفد میں البعث پارٹی کے معاون سکریٹری محمد محمد الزبیری، پاپولر فورسز یونین پارٹی کے سیاسی بیورو کے سربراہ صالح النعیمی، الحق پارٹی کے نائب صدر یاسر الحوری ار عمار السقاف شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفد نے متعدد ایرانی عہدے داروں سے ملاقات کی۔ ان میں نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بھی شامل ہیں۔ ملاقات میں یمن کی موجودہ صورت حال اور 18 اپریل کو کویت کانفرنس کی تیاریوں پر بات چیت ہوئی۔

مبصرین کے نزدیک حوثیوں کا اپنے حلیفوں کا وفد ایران بھیجنا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ابھی تک ایرانی قیادت سے ہدایات اور رہ نمائی حاصل کر رہے ہیں۔ اس طرح حوثی کویت مذاکرات میں ایرانی ایجنڈے کے ساتھ شرکت کریں گے جن کا مقصد کانفرنس کو ناکام بنانا اور کسی بھی سیاسی تصفیے تک پہنچنے میں رکاوٹ کھڑی کرنا ہوسکتا ہے۔

یمنی ذرائع ابلاغ نے یہ اطلاع دی ہے کہ ایرانی اور حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے لبنانی تربیت کار صنعاء کے شمال میں الایمان یونی ورسٹی کے کیمپس میں حوثی ملیشیاؤں کے مسلح عناصر کی عسکری تربیت کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں۔

اسی حوالے سے "الربيع" نیوز ویب سائٹ نے مذکورہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثیوں نے حالیہ عرصے میں بھرتی کیے جانے والے نئے مسلح ارکان کا تربیتی عمل تیز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ مسلح ارکان الایمان یونی ورسٹی کے مرکزی کیمپس میں مخلتف نوعیت کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کیمپس ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر حوثی ملیشیا کے قبضے کے بعد ایک فوجی بیرک میں تبدیل ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں