روسی ساختہ میزائل دفاعی نظام کی پہلی کھیپ ایران پہنچ گئی
روس نے جدید میزائل دفاعی نظام ایس-300 کی پہلی کھیپ اپنے اتحادی ملک ایران کے حوالے کردی ہے اور اس کے بعض حصے ایران میں پہنچ گئے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والی نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ ''میں آج (سوموار کو) یہ اعلان کررہا ہوں کہ تاخیر کا شکار(میزائل دفاعی نظام سے متعلق) معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد ہوگیا ہے''۔
وہ سوشل میڈیا پرپھیلائی گئی ان ویڈیوز کے بارے میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے جن میں ایران کے شمالی علاقے میں ٹرکوں پر ایس-300 میزائل نظام کے حصے لدے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
روس نے ایس-300 زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل دفاعی نظام پہلی مرتبہ سرد جنگ کے زمانے میں 1979ء میں نصب کیا تھا۔اس کے بعد اس نے اس کو جدید بنایا ہے اور برطانیہ کے ایک سکیورٹی تھنک ٹینک ''روسی'' کے مطابق یہ میزائل مختلف قسم کے طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کو ڈیڑھ سو کلومیٹر دور سے بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
یادرہے کہ روس نے امریکا،اسرائیل اور دوسرے مغربی ممالک کے دباؤ پر 2010ء میں ایران کے ساتھ اس جدید میزائل شکن نظام کی فروخت سے متعلق معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔اس نے یہ اقدام ایران پر جوہری پروگرام کے تنازعے کی وجہ سے عالمی پابندیاں عاید ہونے کے بعد کیا تھا۔
تاہم اپریل 2015ء میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایران کے ساتھ چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ عبوری سمجھوتے کے بعد اس خودساختہ پابندی کو ختم کردیا تھا۔اس سال جنوری میں ایران پر عاید عالمی پابنیوں کے خاتمے کے بعد روس نے یہ میزائل نظام اس کو دوبارہ فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران روس کا قریبی اتحادی ہے اور وہ اس کے اسلحے کا بھی بڑا خریدار ملک ہے۔
ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں طویل مذاکرات کے بعد تاریخی جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت امریکا ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے ایران پر عاید پابندیاں ختم کردی ہیں لیکن اس معاہدے کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے کیونکہ ایران نے اپنے میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیت کو ترقی دینے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔