.

بشارالاسد اور اتحادی حسبِ توقع پارلیمانی انتخابات میں فاتح

حزبِ اختلاف نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دے دیا،اقوام متحدہ کا نتائج تسلیم کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی حکمراں بعث پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں حسبِ توقع گذشتہ ہفتے اسد حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت گئی ہیں۔ شامی حزبِ اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

شام کے قومی الیکشن کمیشن نے ہفتے کی شب ان انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق بعث پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے پارلیمان کی ڈھائی سو میں سے دو سو نشستیں جیت لی ہیں۔اسدی پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے قومی اتحاد کے نام سے بلاک کے تحت ان انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق قومی الیکشن کمیشن نے جیتنے والے امیدواروں کی فہرست جاری کردی ہے۔حکمراں قومی اتحاد کے دو سو امیدواروں نے ان پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور وہ تمام کے تمام بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے سربراہ ہشام الشعار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ''کل 8834994 اہل ووٹروں میں سے پچاس لاکھ سے زیادہ نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ریکارڈ 11341 امیدواروں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا تھا لیکن ان میں سے صرف ساڑھے تین ہزار ہی میدان میں رہ گئے تھے اور باقی یہ کہہ کر دستبردار ہوگئے تھے کہ ان کے جیتنے کے امکانات نہیں تھے۔

شام میں 2011ء سے جاری جنگ کے دوران یہ دوسرے پارلیمانی انتخابات تھے لیکن اقوام متحدہ نے ان انتخابات اور ان کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔جنگ زدہ ملک میں تشدد کے واقعات میں اب تک دو لاکھ ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں اندرون اور بیرون ملک دربدر ہیں جبکہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا ملک کے نصف سے بھی کم علاقوں پر کنٹرول ہے۔

شام میں جاری لڑائی کے خاتمے کےلیے گذشتہ ہفتے جنیوا میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا کی ثالثی میں اسد حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بالواسطہ مذاکرات شروع ہوئے تھے۔ان کا مقصد شام میں سیاسی انتقال اقتدار کی راہ ہموار کرنا ہے اور حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کوئی امن معاہدہ طے پانے کی صورت میں ملک کا نیا آئین تیار کیا جائے گا اور ستمبر2017ء میں نئے سرے سے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔