.

غزہ: اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد پر حماس اور صہیونی فوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے حماس کے زیر انتظام غزہ کی پٹی کی جانب بدھ کو دو مرتبہ ٹینکوں سے گولہ باری کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے یہ حملہ غزہ سے سرحدپار مارٹر گولے فائر کیے جانے کے ردعمل میں کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ اسرائیلی علاقے نہال اُز کی جانب پانچ مارٹر گولے چلائے گئے ہیں۔اس کے بعد اسرائیلی فوج نے نہال اُز میں ایک سکیورٹی علاقہ قائم کردیا ہے اور وہاں اب صرف اس علاقے کے لوگ ہی داخل ہوسکیں گے۔

قبل ازیں اسرائیلی فوج نے دو مرتبہ ٹینکوں سے محاصر زدہ غزہ میں اہداف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دونوں مرتبہ ہی غزہ کی پٹی سے مارٹر گولے فائر کیے جانے کے ردعمل میں ٹینکوں سے گولے برسائے گئے ہیں۔

فلسطین کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور ٹینکوں سے مشرقی علاقے طوفاہ میں گولے فائر کیے گئے ہیں۔فوری طور پر گولہ باری کے اس تبادلے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور نہ کسی فلسطینی مزاحمتی گروپ نے مارٹر چلانے کا دعویٰ کیا ہے۔

حماس اور ایک اور بڑے فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد نے الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں اور ان میں اسرائیل کو سرحد پر کشیدگی میں اضافے پر انتباہ جاری کیا ہے۔

حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت اسرائیلی قبضے کو غزہ کے مشرق میں کشیدگی میں اضافے اور اس کے مضمرات کا ذمے دار قرار دیتی ہے۔اسلامی تحریک متعلقہ فریقوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس جارحیت کو رکوانے اور اسرائیلی جرائم کے خاتمے کے لیے اپنے حصے کی ذمے داری پوری کریں۔

اسرائیل نے حال ہی میں حماس پر غزہ سے اسرائیلی علاقے کی جانب نئی سرنگیں بنانے کے الزامات عاید کیے ہیں لیکن اس کے باوجود سرحدی علاقے میں صورت حال پُرامن رہی ہے۔یادرہے کہ ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے نام پر ہی اسرائیل نے 2014ء میں غزہ کی پٹی پر پچاس روزہ جنگ مسلط کی تھی۔اس جنگ کے خاتمے کے بعد سے دونوں کے درمیان جنگ بندی جاری ہے۔تاہم گاہے گاہے تشدد کے واقعات سے اس جنگ بندی کے ٹوٹنے کے خطرات پیدا ہوتے رہے ہیں۔