عراق میں داعش روزانہ شکست اور پسپائی سے دوچار

انتہاپسندوں کی بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی صلاحیت ماند پڑچکی: امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے ایک جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجو شکست سے دوچار ہیں،انھیں پسپائی کا سامنا ہے اور وہ کوئی بڑی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں جبکہ وہ اپنے خلاف ہر نئے حملے کے بعد اپنی صفوں میں نئے جنگجو بھرتی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں موجود امریکی فوج کے میجر جنرل گیری وولسکی نے کہا ہے کہ امریکا کی مدد سے عراقی سکیورٹی فورسز کی داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے کوششیں بارآور ثابت ہورہی ہیں۔

میجر جنرل وولسکی نے بغداد سے پینٹاگان میں ویڈیو کال کے ذریعے رپورٹروں کو بتایا کہ ''انتہاپسندوں کی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت ماند پڑ چکی ہے۔وہ اب اپنا دفاع کررہے ہیں اور وقت گزاری کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو مؤخر کرنے کی کوشش کررہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''داعش روزانہ ہی اپنے زیر قبضہ علاقوں کو کھو رہے ہیں۔ان کے خلاف مہم کے آغاز کے وقت بیسیوں جہادی اکثر اکٹھے حملے کیا کرتے تھے لیکن اب یہ معاملہ نہیں رہا ہے''۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ''پہلے ہم 50 ،60اور 70 تک جنگجوؤں کو اکٹھے دیکھنے کے عادی تھی لیکن اب ان کی تعداد گھٹ کر پانچ سے آٹھ یا پھر 15 تک آچکی ہے اور وہ بھی خودکش بمباروں کی شکل میں بارود سے بھری کاروں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔اب ہم انھیں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے نہیں دیکھتے۔انھیں کسی ایک آپریشن کے لیے دو سے تین ہفتے کا وقت لگ جاتا ہے''۔

امریکی جنرل نے بدھ کو اپنے تجزیے پر مبنی بیان جاری کیا ہے اور اسی روز داعش کے جنگجوؤں میں بغداد میں تین خودکش کار بم دھماکے کیے ہیں،جن کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 94 ہوگئی ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے تین مئی کو شمالی شہر موصل کے نزدیک واقع ایک علاقے پر حملہ کیا تھا اور اس میں ایک امریکی نیوی سیل مارا گیا تھا۔وہ کرد فورسز البیش المرکہ کے ساتھ مشاورتی مشن پر تھا۔

عراقی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ داعش کے زیر قبضہ اب عراق کا صرف چودہ فی صد علاقہ رہ گیا ہے۔اس سے پہلے ان کے زیر قبضہ عراق کا چالیس فی صد علاقہ تھا۔داعش نے جون 2014ء میں عراق کے شمالی شہر موصل پر قبضہ کیا تھا اور پھر وہاں سے وہ یلغار کرتے ہوئے دوسرے مغربی اور شمال مغربی شہروں تک بھی پھیل گئے تھے۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد نے اسی سال اگست میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا اور ان کے لڑاکا طیاروں کی فضائی بمباری کی بدولت ہی عراقی فوج کو مغربی صوبہ الانبار ،دیالا ،صلاح الدین اور دوسرے علاقوں میں داعش کو شکست دینے اور انھیں وہاں سے پسپا کرنے میں کامیابی ملی ہے۔امریکا نے عراقی فورسز کی تربیت اور فوجی مشاورت کے لیے اپنے کمانڈوز بھی عراق میں بھیج رکھے ہیں اور وہ داعش کے خلاف کارروائیوں میں عراقی فورسز کی رہ نمائی کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں