عراق کا اردن سے صدام کی بیٹی کو حوالے کرنے کا مطالبہ
عراقی وزارت خارجہ نے اردن کی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اردن میں مقیم ان عراقی شخصیات کو حوالے کیا جائے جن پر بغداد حکومت دہشت گردی کی سپورٹ اور منی لانڈرنگ کا الزام عائد کرتی ہے۔ ان شخصیات میں مبینہ طور پر سابق عراقی صدر صدام حسین کی بیٹی رغد حسین بھی شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے عدالتی کارروائی کے لیے مطلوب اردن کی سرزمین پر موجود شخصیات کے حوالے کیے جانے کے سلسلے میں اردن سے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔
اس دوران عراقی ویب سائٹ "شفق نيوز" نے انکشاف کیا ہے کہ عراق نے جن شخصیات کا مطالبہ کیا ہے ان میں نمایاں ترین رغد صدام حسین ہیں۔ ان کے علاوہ موجودہ عراقی حکام کے لیے حزب اختلاف کی متعدد شخصیات بھی ہیں۔
واضح رہے کہ عراق کئی مرتبہ اردن سے رغد صدام حسین کو حوالے کیے جانے کا مطالبہ کرچکا ہے جو 2003 سے دارالحکومت عمان میں مقیم ہیں۔ تاہم اردن ہر مرتبہ ان مطالبوں کو مسترد کرتا رہا ہے۔
-
داعش کی پیدائش کا ذمے دار کون؟ صدام حسین یا امریکا ؟
مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک تاریخ دان نے اسی ہفتے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے کہ ...
ایڈیٹر کی پسند -
عراق پریلغار: امریکا، ایران کا خفیہ گٹھ جوڑ طشت ازبام!
صدام حسین کا تختہ الٹنے میں ایران نے امریکا کی بھرپور مدد کی: زلمے خلیل زاد
بين الاقوامى -
داعش نے صدام حسین کی قبر کا نام ونشان مٹا دیا
عراق و شام سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ’’داعش‘‘ کے ...
مشرق وسطی