نیتن یاہو کی براہ راست مذاکرات کی پیش کش مسترد
فلسطینی وزیراعظم رامی حمداللہ نے براہ راست مذاکرات سے متعلق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تجویز کو مسترد کردیا ہے اور اس کو وقت گزاری کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔
رامی حمداللہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں منگل کے روز فرانسیسی وزیراعظم مینول والس سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''وقت بہت مختصر ہے ،نیتن یاہو وقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس مرتبہ وہ عالمی برادری سے بھاگ نہیں سکیں گے''۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم فرانس کا کثیرالجہت امن اقدام مسترد کرچکے ہیں۔اس کے بجائے انھوں نے پیرس ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس سے براہ راست بات چیت کی پیش کش کی ہے۔فرانسیسی وزیراعظم مینول والس کا سوموار کو مقبوضہ بیت المقدس میں نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران کا کہنا تھا کہ وہ اس تجویز پر صدر فرانسو اولاند سے بات کریں گے۔
مینول والس اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے دورے پر ہیں۔انھوں نے فلسطینی قیادت سے ملاقات سے قبل نیتن یاہو سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے سلسلے میں اپنے ملک کے امن منصوبے پر بات چیت کی ہے۔
اس امن منصوبے کے تحت 3 جون کو پیرس میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوگا لیکن اس میں اسرائیلی اور فلسطینی وفود شرکت نہیں کریں گے۔اس کے بعد خزاں میں ایک اور کانفرنس ہوگی اور اس میں اسرائیلی اور فلسطینی وفود شریک ہوں گے۔اس کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی ہے تا کہ آزاد فلسطینی ریاست اور خطے میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اپریل 2014ء سے براہ راست مذاکرات معطل ہیں۔نیتن یاہو مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے فرانسیسی اقدام پر پہلے بھی تنقید کرچکے ہیں اور وہ محمود عباس سے براہ راست بات چیت کی پیش کشیں کرتے رہتے ہیں لیکن فلسطینی قیادت ان کے ساتھ کسی تیسری طاقت کی ثالثی یا موجودگی کے بغیر براہ راست مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔