فلوجہ میں شہریوں کا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے مغربی شہر فلوجہ میں داعش کے جنگجوؤں نے مبینہ طور پر سیکڑوں خاندانوں کو روک رکھا ہے اور وہ انھیں عراقی فورسز کے خلاف لڑائی میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحت پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے شہر کے مکینوں کے حوالے سے منگل کے روز یہ اطلاع دی ہے۔عراقی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے نے فلوجہ پر دوبارہ کنٹرول کے لیے گذشتہ ہفتے داعش کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی اور تب سے اب تک قریباً تین ہزار سات سو افراد شہر سے جانیں بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے ترجمان ولیم سپینڈلر نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ ''فلوجہ کے شہری مرکز میں شدید گولہ باری کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔28 مئی کو گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوگئے تھے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ فلوجہ کے وسطی علاقے میں داعش کی جانب سے سیکڑوں خاندانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔شہر سے بے گھر ہونے والے افراد نے یو این ایچ سی آر کے فیلڈ اسٹاف کو یہ معلومات فراہم کی ہیں۔

یواین ایچ سی آر کی خاتون ترجمان آریان رومیری نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''فلوجہ کے نواحی علاقوں سے بیشتر لوگ دوسرے مقامات کی جانب منتقل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔بعض اوقات جنگجو ان کی نقل وحرکت کنٹرول کرتے رہے ہیں۔شہریوں کو وہاں سے بھاگ نکلنے سے بھی روکا جاتا رہا ہے۔حالیہ دنوں میں وہاں سے آنے والے لوگوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ انھیں فلوجہ کے اندر جنگجوؤں کے ساتھ چلنے پھرنے کا کہا جاتا تھا''۔

ولیم سپینڈلر کا کہنا تھا کہ عراقی حکام نے قریباً پانچ سو افراد اور بارہ سال سے کم عمر لڑکوں کو شہر سے باہر نکلنے کے بعد سکیورٹی سکریننگ کے لیے روک رکھا ہے۔ان کی جانچ پرکھ کے عمل میں سات دن لگ سکتے ہیں۔سوموار کو اس کارروائی کے بعد ستائیس افراد کو رہا کیا گیا تھا۔

درایں اثناء العربیہ نیوز چینل نے اطلاع دی ہے کہ عراق کی جائنٹ آپریشنز کمانڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وفاقی پولیس اور قبائل سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں نے فلوجہ کے شمال مشرق میں واقع داعش کے زیر قبضہ علاقے صقلاویہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

عراقی فوج نے امریکی فوج کی فضائی مدد سے سوموار کو شہر کے جنوبی حصے پر دھاوا بولا تھا اور شہر کی حدود میں واقع ایک پولیس اسٹیشن پر قبضہ کر لیا تھا۔اب شہر میں داعش کے جنگجوؤں اور عراقی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے اور داعش نے مبینہ طور پر عراقی فوج کا ایک بڑا حملہ پسپا کر دیا ہے۔شہر کے جنوبی علاقے نیمیہ سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

امریکی فوج کے اندازے کے مطابق فلوجہ میں داعش کے پانچ سو سے سات سو کے درمیان جنگجو موجود ہیں۔امریکا کی قیادت میں اتحاد نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران فلوجہ کے نواح میں تین فضائی حملے کیے ہیں اور داعش کے ٹھکانوں ،گاڑیوں اور سرنگوں کے داخلی حصوں کو تباہ کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں