.

عراقی وزیراعظم نے جنگی جرائم میں ملوث ملیشیا کی حمایت کردی

جنگی جرائم کی تحقیقات کے مطالبات نظرانداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلوجہ شہر کے قبائلی عمائد کے اس مطالبے کو نظرانداز کردیا ہے جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ شیعہ ملیشیا حشد الشعبی کے ہاتھوں فلوجہ میں نہتے شہریوں کے قتل عام اور جنگی جرائم کی تحقیقات کرائیں اور قتل عام میں ملوث عناصر کوعبرت ناک سزا دلوائیں۔ اس کی جگہ العبادی نے حشد الشعبی کے جرائم کی تحقیقات کے بجائے شیعہ ملیشیا کی حمایت کرتے ہوئے اس کی تعریف وتوصیف میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے شروع کردیے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق وزیراعظم العبادی نے فلوجہ اور دوسرے شہروں میں دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ کو شکست دینے میں فوج کی معاونت کرنے پر حشدالشعبی کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الشعبی جیسی ملیشیا فوج اور عراقی حکومت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حشد الشعبی کی صفوں میں لڑنے والے رضاکاروں میں کوئی امتیاز نہیں برتا جا سکتا ہے۔

بغداد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ داعش کے خلاف فوجی آپریشن کی آڑ میں کسی کو جنگی جرائم کے ارتکاب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی گروپ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز الانبار کے قبائلی سرداروں اور دیگر سرکردہ شخصیات نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حشدالشعبی کے ہاتھوں ہونے والے جرائم کی تحقیقات کرائے اور الشعبی کے سرکردہ رہ نماؤں کو فرقہ وارنہ جرائم اور شہریوں کے قتل عام کے جرم میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

عراقی قبائل کی جانب سے حکومت سے الحشد الشعبی کے جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ ایک ایسے وقوت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز ذرائع ابلاغ میں دسیوں مسخ شدہ لاشیں دکھائی گئی تھیں جو مبینہ طورپر الحشدالشعبی کی انتقامی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھائے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق الشعبی کے جنگجوؤں نےفلوجہ میں داعش سے تعلق کے شبے میں دسیوں افراد کو پکڑںے کے بعد انہیں اذیتیں دے کر قتل کردیا تھا۔