منبج میں شامی فورسز اور داعش میں دوبدو لڑائی
شام کے شمالی صوبے حلب میں واقع شہر منبج میں امریکا کی حمایت یافتہ شامی ڈیمو کریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان دو بدو لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ منبج کے مغربی علاقوں میں کرد اور عرب جنگجو داخل ہوگئے ہیں اور ان کے اس دھاوے کے بعد ان کی داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی ہورہی ہے۔
کرد ملیشیا اور عرب اتحاد پرمشتمل شامی ڈیمو کریٹک فورسز نے گذشتہ ماہ ترکی کی سرحد سے چالیس کلومیٹر دور واقع شہر منبج پر چڑھائی کی تھی۔انھیں امریکا کے خصوصی دستوں اور فضائیہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
اگر داعش اس شہر میں شکست سے دوچار ہوجاتے ہیں اور شام اور ترکی کو ملانے والی شاہراہوں پر ان کا کنٹرول ختم ہوجاتا ہے تو پھر بیرونی دنیا سے وہ کٹ کر رہ جائیں گے اور ان کے شامی دارالحکومت الرقہ پر اس کرد عرب اتحاد یا پھر شامی فوج کے حملے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
ایس ڈی ایف نے 31 مئی کو منبج پر چڑھائی کے بعد سے متعدد نواحی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔اس دوران ہزاروں شہری جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں اور اب بھی ہزاروں مکین شہر میں موجود ہیں۔عرب کرد اتحاد نے داعش کے خلاف لڑائی کے دوران اس شہر کا چاروں اطراف سے محاصرہ کر رکھا ہے۔