.

عراق : ڈچ داعشی خاتون پیشمرگہ فورسز کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی ایک ڈچ خاتون نے عراق کے شمالی شہر موصل کے قریب خود کو پیشمرگہ فورسز کے حوالے کردیا۔ موصل کو شدت پسند تنظیم کا ایک اہم ترین گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔

لورا انگلاہینسن نامی 21 سالہ ڈچ خاتون کی انٹرنیٹ کے ذریعے ایک داعشی نوجوان سے آشنائی ہوئی جس کے بعد دونوں نے شادی کا اور شدت پسند تنظیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

لورا کا تعلق ہالینڈ کے شہر ہیگ سے ہے۔ اس نے اپنے شوہر جس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ فلسطینی نژاد ہے، اس کے ساتھ گزشتہ برس ستمبر میں ترکی کے سفر کا فیصلہ کیا۔ وہاں سے دونوں افراد نے شام بالخصوص الرقہ شہر کا رُخ کیا جو داعش تنظیم کا گڑھ ہے۔

غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق اس جوڑے کے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹی ایمان جس کی عمر چار برس ہے اور ایک بیٹا عبداللہ جس کی عمر ایک برس ہے۔

لورا اور اس کا شوہر الرقہ شہر سے موصل کی جانب کوچ کر گئے۔ جہاں چند ماہ کے بعد لورا نے اپنے دو بچوں سمیت خود کو موصل کے قریب پیشمرگہ فورسز کے حوالے کر دیا۔

لورا نے بتایا کہ داعش تنظیم کے سائے تلے زندگی انتہائی دشوار ہے اور وہ ایک مدت سے شہر میں اس "جہنم" سے فرار ہونے کی کوشش کررہی تھی۔

اس نے بتایا کہ پیشمرگہ فورسز نے اس کے دونوں بچوں کو علاج فراہم کیا جو موصل میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں معمولی طور پر زخمی ہوگئے تھے۔