ایرانی پاسیج فورس کے سربراہ کی شام میں زخمی ہونے کی اطلاعات

بریگیڈیئر رضا نقدی کی پراسرارطور پر سرحدی شہر القنیطرہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام پیپلز موبلائیزیشن فورسز کے سربراہ بریگیڈیئر محمد رضا نقدی کو اسرائیل کی سرحد سے متصل شامی شہر القنیطرہ میں دیکھا گیا ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ بریگیڈیئر نقدی اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں زخمی بھی ہوئے ہیں تاہم تل ابیب کی جانب سے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

پاسج فورس کے سربراہ کا موجودہ وقت میں القنیطرہ کا دورہ کئی طرح کے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ محمد رضا نقدی ایک ایسے وقت میں اسرائیل کی سرحد کے قریبی علاقے میں پائے گئے جب کہ دوسری طرف ایرانی حمایت یافتہ شیعہ عسکری قوتیں حلب کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں اور وہ حلب کو باغیوں سے چھڑانے کے لیے ’فائنل راؤنڈ‘ کی تیاری کررہی ہیں۔

’’پاسیج نیوز‘‘ نے بریگیڈیئر رضا نقدی کی دو تصاویر شائع کی ہیں جن میں انہیں القنیطرہ کے مقام پر دکھایا گیا ہے۔ تصاویر سے متصل تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ محمد رضا نقدی اچانک ہی القنیطرہ پہنچے ہیں۔

ادھر عرب ذرائع ابلاغ نے بریگیڈیئر رضا نقدی کے القنیطرہ کے دورے کے دوران اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کی بھی خبر دی ہے۔ تاہم ان خبروں کی ایران یا شام کی جانب سے تصدیق کی گئی اور نہ ہی صہیونی ریاست نے ان کی تصدیق کی ہے۔ البتہ تمام فریقین کی خاموشی سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ ممکنہ طورپر القنیطرہ میں آمد کے دوران بریگیڈیئر نقدی اسرائیلی فوج کی کارروائی میں زخمی ہوئے ہوں گے۔

ایران کی ’’موج نیوز‘‘ نامی ویب سائیٹ نے بھی کہا ہے کہ ایران کا ایک اہم فوجی عہدیدار جنوب مغربی شام کے شہر القنیطرہ میں زخمی ہوا ہے تاہم اس رپورٹ میں زخمی ہونے والی شخصیت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

عرب پین روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیلی بھی بریگیڈیئر رضا نقدی کی القنیطرہ آمد پر حیران ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بریگیڈیئر نقدی قصدا شہر القنیطرہ میں سرحد کے انتہائی قریب نمودار ہوئے۔ ان کا القنیطرہ میں آنا اور کھلے عام سرحدی علاقے میں گھومنا اسرائیل کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے تاہم صہیونی فوج کی جانب سے انہیں چھیڑا نہیں گیا۔

تل ابیب کے ایک فوجی عہدیدار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رضا نقدی کا شام کے سرحدی کے علاقے کا دورہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اس سے قبل اس علاقے میں جنرل قاسم سلیمانی بھی آتے رہے ہیں۔ اسرائیل نے انہیں بھی خبردار کیا تھا کہ وہ سرحدی علاقے میں مت گھومیں ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سلیمانی تو اب وہاں نہیں آتے مگر ان کی جگہ کیا اب محمد علی رضا نقدی اس علاقے میں اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کریں گے۔

یاد رہے کہ جنوری 2015ء کو القنیطرہ کے دورے پر آئے پاسداران انقلاب کے چھ افسران اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کو وادی گولان میں اسرائیلی فوج نے ایک فضائی حملے کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔ سنہ 2015ء ہی میں پاسیج فورس کے ایک عہدیدار نادر حمید دیلمی القنیطرہ میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں