شام : فضائی حملے میں زخمی عمران دقنیش کا بڑا بھائی علی چل بسا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے شمالی شہر حلب میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے والے بچے عمران دقنیش کا بھائی علی اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ہے۔

دس سالہ علی دقنیش اپنے چھوٹے بھائی اور خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ بدھ کی شب اپنے اپارٹمنٹ کی عمارت پر فضائی بمباری میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔اس حملے میں ان کا مکان ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا اور انھیں خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ زخمی حالت میں ملبے سے نکالا گیا تھا۔

پانچ سالہ عمران دقنیش کا چہرہ خون آلود اور غبار آلود تھا اور اس کو اسی حالت میں اسپتال منتقل کرنے کی ویڈیو کی سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر تشہیر کی جارہی ہے۔ ایمبولینس میں بیٹھے اس بچے کی تصویر منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شام میں جاری جنگ کی تباہ کاریوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔امریکا نے اس بچے کی تصویر کو شام میں جاری جنگ کا حقیقی چہرہ قرار دیا ہے اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں شام میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کررہی ہیں۔

شامی کارکنان کے مطابق دقنیش کے بڑے بھائی علی کو بھی خاندان کے دوسرے زخمی افراد کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ ہفتے کے روز زندگی کی بازی ہار گیا ہے۔برطانیہ میں قائم ''شامی یک جہتی مہم'' نے بھی اپنے فیس بُک صفحے پر اس کم سن کی موت کی اطلاع دی ہے اور حملے کو ایک جنگی جرم قرار دیتے ہوئے فضائی بمباری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان دونوں بچوں کے باپ ابو علی نے بتایا ہے کہ ان کے بچے اپنے مکان کے نزدیک گلی ہی میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔اس دوران فضائی حملہ کیا گیا تھا۔انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہ حملے کے وقت چھوٹے بیٹے عمران کے ساتھ ایک صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے اور خاندان کے باقی لوگ فلیٹ کے دوسرے حصوں میں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے بچوں کو موت کے منھ میں جاتے ہوئے دیکھنا بہت ہی دردناک ہوتا ہے۔

جنگ زدہ شامی عوام کے حق میں مہم ''اور کتنے چاہییں'' کی شریک بانی ندا ہاشم نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :''یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ علی پہلا بچہ نہیں ہے جو اس جنگ میں مرا ہے اور وہ شاید موت کے مُنھ میں جانے والا آخری بچہ بھی نہیں ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے دیگر کارکنان کے ہمراہ مارچ 2015ء میں وائٹ ہاؤس کے سامنے شام میں جاری جنگ میں بچوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا تھا اور اس جنگ میں مارے گئے بیس ہزار سے زیادہ بچوں کے نام پکارے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ اعداد وشمار تو ایک سال قبل کے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ جنگ میں کام آنے والے بچوں کی تعداد اب اس سے کہیں بڑھ چکی ہے بلکہ دگنا ،تین گنا اور چار گنا ہوچکی ہے اور جب میں یہ گفتگو کررہی ہوں تو شاید شام میں کوئی ایک اور بچہ مر چکا ہو''۔ ندا ہاشم کا کہنا تھا کہ ''ایک مستقل حقیقت تو یہ ہے کہ زندہ بچ جانے والے ہر عمران کے مقابلے میں بہت سے علی جان کی بازی ہار جاتے ہیں''۔

یونیسیف کے فراہم کردہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں اس وقت ساٹھ لاکھ سے زیادہ بچے جنگ سے متاثرہ ہیں۔ان کے علاوہ بائیس لاکھ بچے مہاجر کے طور پر پڑوسی ممالک میں کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔یہ تمام تعداد 80 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے اور یہ شام میں بچوں کی کل آبادی اور اٹھارہ سال سے کم عمر آبادی کا 80 فی صد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں