.

جرابلس آپریشن میں ایک ترک فوجی ہلاک، تین زخمی

ترک فوج کے شام میں باغیوں کے ٹھکانوں پرحملے، مزید کمک روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی سرحد سے متصل شام کے شمال مشرقی علاقے جرابلس میں ترک فوج کے حالیہ آپریشن کے دوران راکٹ حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ تازہ فوجی آپریشن میں ترک فوجیوں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

ادھر ترکی کے جنگی طیاروں نے جرابلس میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر مزید فضائی حملے کیے ہیں جب کہ مزید فوجی نفری بھی جرابلس روانہ کر دی گئی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق جرابلس میں ترکی فوجی ٹینک کو کردوں کی نمائندہ حمایۃ الشعب کے زیرکنٹرول علاقوں سے ایک راکٹ سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن’’این ٹی وی ‘‘ اور دوغان نیوز ایجسنی نے اپنی رپورٹس میں بتایاہے کہ شمالی شام میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کےدوران راکٹ حملوں سے دو ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ راکٹ حملوں کے نتیجے میں دونوں ٹینکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی کے سرحدی علاقے جرابلس پر ترک فوج نے گذشتہ بدھ کو’’فرات کی ڈھال‘‘ کے عنوان سے فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ ترک فوج اور انقرہ نواز جنگجوؤں کی مدد سے ترکی کے مخالف کردوں کو وہاں سے مار بھگایا ہے۔ جرابلس ٹاؤن اور اس کے مضافات پر ترک فوج کا کنٹرول ہے۔

خبر رساں ایجنسی اناطولو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شام میں داخل ہونے والی ترک فوج کے ٹینکوں پر ’’پی کے کے‘‘ کی ایک ذیلی عسکری تنظیم’’ پی وائی ڈی‘‘نے حملہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جوابی کارروائی میں ترک فوج نے باغیوں کے ٹھکانوں پرتوپخانے سے اور فضائی حملے کیے ہیں۔

ہفتے کے روز یہ اطلاعات آئی تھیں کہ ترکی کے ایف 16 طیاروں نے کرد تنظیم حمایۃ الشعب کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ حمایۃ الشعب شمالی شام میں مغرب نوازڈیموکریٹک فورسز کا حصہ ہے۔

دیاربکر ہوائی ڈے پر حملہ

ادھر ترکی کے جنوب مشرقی علاقے دیار بکر کے گورنر حسین اقصوی نے بتایا ہے کہ شہر کے مرکزی ہوائی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے تاہم اس حملے میں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ حملے کے باوجود ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔

خبر رساں ایجنسی دوغان نے سماجی کارکنوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دیا بکر کے ہوائی اڈے پر چار راکٹ داغے گئے تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ ہوائی اڈے کے ویران علاقے میں گرے ہیں۔ راکٹ حملوں کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔ البتہ دھماکوں سے ہوائی اڈے کے قریب بعض عمارتوں کےشیشے ٹوٹ گئے تھے۔

ادھر ترک فوج کے جنگی طیاروں نے جنوبی جرابلس میں تل عمارنہ کے مقام پر شامی فوج کے حامی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

جرابلس میں تین روز پیشتر داخل کی گئی فوج کی مدد کے لیے مزید چھ ٹینک روانہ کر دیے گئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ترک حکام کا کہنا ہے کہ جرابلس میں جاری ’’فرات کی ڈھال‘‘ آپریشن کے دوران شدت پسند گروپ دولت اسلامی داعش کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ پچھلے چار روز کے دوران ترکی فوجی آپریشن کے لیے 50 ٹینک اور 400 فوجی جرابلس بھیج چکا ہے۔

شامی اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ترک فوج کے ساتھ مل کر داعش کی نصب کردہ بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانےکی کوشش کررہے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کی سرحد کے ساتھ ساتھ پھیلے داعش کے مراکز کی طرف پیش قدمی جاری کھے ہوئے ہیں۔