.

داعش کا ترجمان ابو محمد العدنانی حلب میں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند گروپ دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے ترجمان ابو محمد العدنانی کو شام کے شمالی صوبے حلب میں ایک کارروائی کےدوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔

داعش کی آن لائن نیوز ایجنسی ’اعماق‘ نے ابو محمد العدنانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ العدنانی کو ولایۃ حلب میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔ داعش کی جانب سے جاری کردہ بیان میں العدنانی کے قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی دی گئی ہے۔

’اعماق‘ کی طرف سے داعش کے ترجمان کی ہلاکت کے بارے میں مزید تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ تاہم بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ العدنانی کو منگل کے روز قدیران چوک میں ایک فضائی حملے سے اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کار پر جا رہا تھا۔

داعش کی طرف سے العدنانی کے قتل کی خبر سامنے آتے ہی امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ داعشی ترجمان کو اتحادی طیاروں نے شام کے صوبے حلب میں واقع شہر الباب میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کار میں سفر کررہا تھا۔

خیال رہے کہ سنہ 1977ء میں پیدا ہونے والے ابو محمد العدنانی کو داعش تنظیم میں اہم مقام حاصل تھا۔ اس کا آبائی تعلق شام کے صوبے ادلب میں واقع سراقب کے قریب بنش قصبے سے تھا اور وہ داعشی خلفیہ ابو بکر البغدادی کا مقرب اور مقتول ابو عمر الشیشانی کے بعد تیسرا اہم کمانڈر سمجھا جاتا تھا۔ البغدادی کی ہلاکتوں کی خبریں منظرعام پر آنے کے بعد العدنانی کو اس کے جانشین کے طور پر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے۔

تنظیم میں میں العدنانی کو ’امیر الشام‘ کا عہدہ سونپا گیا۔ اس کے اصل نام سے آگاہی ممکن نہیں ہو سکی۔ تاہم ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس کا اصل نام طہ صبحی فلاحہ تھا۔

پانچ مئی 2015ء کو امریکی وزارت خارجہ نے داعشی جنگجوؤں کی ایک فہرست جاری کی تھی جس میں ابو محمد العدنانی کی گرفتاری میں مدد دینے پر پانچ ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔

رواں سال جنوری میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ العدنانی عراق کے مغربی صوبے الانبار میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہو گیا ہے اور اس کو وہاں سے داعش کے مرکز موصل منتقل کردیا گیا تھا۔ دس سال پیشتر العدنانی نے اپنا سفر القاعدہ سے شروع کیا۔ بعد ازاں شام میں سرگرم النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اور آخر کار داعش میں شامل ہو گیا تھا۔