.

ایرانی کُردوں کے ایک گروپ کے لیے امریکی تربیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی نے "کردستان فریڈم فیلکنز" تنظیم کے جنگجوؤں کے متعلق ایک تصویری رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ تنظیم کردوں کی ایران سے خودمختاری کا مطالبہ کرتی ہے۔ رپورٹ میں تنظیم کے جنگجوؤں کو امریکی اور یورپی عسکری مشیروں کے ہاتھوں ہتھیاروں اور دھماکا خیز مواد کے استعمال کی تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تنظیم کے عسکری ونگ کے کمانڈر حسين يزدان بناه کا کہنا ہے کہ " اگرچہ ہماری فورسز کی تربیت دہشت گرد تنظیم "داعش" سے لڑنے کے لیے تھی ، تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم نے ایران کے خلاف لڑائی کو داعش کے خلاف لڑائی میں بدل دیا ہے"۔

یزدان بناہ نے باور کرایا کہ ان کی جماعت ایران میں حملے جاری رکھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صرف رواں سال میں ہی ان کی جماعت نے ایران کے اندر 6 حملے کیے۔


یہ جماعت کردستان کو ایران سے علاحدہ کر کے ایک خودمختار کرد ریاست تشکیل دینے اور عراق ، شام اور ترکی میں بقیہ کرد علاقوں کو اس کے ساتھ یکجا کر دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

"کردستان فریڈم" پارٹی جس کے ارکان کی تعداد سیکڑوں میں ہے، یہ ایران ، عراق اور عراقی کردستان کے سرحدی تکون کے اندر پائی جاتی ہے۔

عراقی کرد فورسز کے زیر سایہ امریکی اور یورپی فورسز کی جانب سے ایرانی کرد گروپوں کی تربیت سے تہران کو سخت تشویش لاحق ہے۔ کرد گروپ جب بھی سرحد یا ایران کے اندر ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہیں تو جواب میں تہران حکومت کی جانب سے کردستان صوبے کے اندر علاقوں پر بم باری کی جاتی ہے۔

دوسری جانب امریکا کے زیر قیادت اتحادی افواج کے ترجمان جولیو مک کیرے نے عراقی شہر اربیل میں "کردستان فریڈم" پارٹی کے ارکان کو تربیت دیے جانے کا انکشاف کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ ارکان نے کردستان میں پیشمرگہ کی ایک وزارت کے زیرانتظام فورسز میں شامل ہو کر تربیت حاصل کی۔

تاہم "کردستان فریڈم" پارٹی کے عسکری کمانڈر يزدان بناه کا کہنا ہے کہ "اس میں کوئی شک نہیں کہ تربیت کار ہماری شناخت سے واقف تھے۔ ہمارے جنگجو کرد پیشمرگہ سے ملتا جلتا لباس پہنتے ہیں لیکن ہماری جماعت کا لوگو نارنجی اور سفید رنگ کا ہے"۔

انہوں نے بتایا کہ مارچ 2015 سے ستمبر 2015 کے دوران امریکی عسکری مشیروں کے ہاتھوں فرنٹ لائن میں جماعت کے جنگجوؤں کی تربیت کے تین دور ہوئے جو کرکوک صوبے کے بیچ متعین ہیں۔ بعد ازاں جماعت کے جنگجوؤں نے دیگر عراقی کرد جنگجوؤں کے ہمراہ دیگر تربیتی پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔ جماعت کے جنگجو عراق کے شہر کرکوک کے مغرب میں فرنٹ لائن میں رہتے ہوئے تقریبا 15 کلومیٹر کی اراضی اور اسی طرح موصل شہر کے مشرق میں بھی بعض ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں ایک اہم ذمہ دار نے بتایا کہ تربیت اور اسلحہ ان فورسز کو فراہم کیا جارہا ہے جو دہشت گرد تنظیم "داعش" کے خلاف لڑ رہی ہیں اور اس کا استعمال دیگر ممالک کے ساتھ تنازعات اور معرکوں میں نہیں کیا جا رہا ہے۔