امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف ممکنہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن مختلف پیچیدگیوں کے باوجود سفارتی راستے پر قائم رہنا چاہتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ویب سائٹ ''ایکسیوس'' کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ویٹکوف سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں، جہاں گزشتہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور شروع ہونا تھا، تاہم لبنان میں سیکیورٹی صورتحال میں پیدا ہونے والی پیش رفت کے باعث ان مذاکرات کا آغاز مؤخر کر دیا گیا تھا۔
یہ امریکی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال سوئٹزرلینڈ کا دورہ نہیں کریں گے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ آئندہ مرحلے کے مذاکرات سے متعلق بعض لاجسٹک اور انتظامی مسائل کے باعث کیا گیا ہے۔
Trump envoy Witkoff heads to Switzerland ahead of potential Iran talks https://t.co/R4rD0vJ9Ce
— Axios (@axios) June 19, 2026
تاہم امریکی انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات شروع کرنے کے لیے بدستور تیار ہے اور ضروری انتظامات مکمل ہوتے ہی ایران کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
مذاکرات منسوخ نہیں، صرف مؤخر
تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی تفصیلات پر بات چیت کرنا تھا۔ ان مذاکرات میں ایرانی جوہری پروگرام، بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار اور ایران پر عائد پابندیوں سے متعلق امور زیرِ بحث آنے تھے۔
تاہم لبنان کی محاذی صورتحال میں کشیدگی بڑھنے کے باعث دونوں فریقوں نے مذاکرات کے طے شدہ دور کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذاکرات کے لیے کوئی نئی تاریخ مقرر کی گئی ہے یا نہیں۔ نہ ہی اس بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں کہ آیا دیگر امریکی حکام بھی اسٹیو ویٹکوف کے ساتھ سوئٹزرلینڈ پہنچیں گے یا نہیں۔
تاہم ویٹکوف کی سوئٹزرلینڈ روانگی کو اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور پسِ پردہ تیاریاں بدستور جاری ہیں۔
فیصلہ کن مرحلہ
یہ مذاکرات حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا پہلا عملی امتحان سمجھے جا رہے ہیں، جس کے تحت دونوں فریقوں کو ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق ایک زیادہ جامع اور تفصیلی معاہدے پر مذاکرات کے لیے مہلت دی گئی ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور اس کی جوہری سرگرمیاں سخت بین الاقوامی نگرانی کے دائرے میں رہیں۔
دوسری جانب تہران کسی بھی حتمی معاہدے کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
اسٹیو ویٹکوف کی سوئٹزرلینڈ روانگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکی انتظامیہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اہم اختلافی نکات اب بھی پیچیدہ نوعیت کے ہیں اور آئندہ ہفتوں میں ان کے حل کے لیے مزید مذاکرات اور سمجھوتوں کی ضرورت ہوگی۔