.

شام : حلب سے انخلاء کا منصوبہ ناکام ،اقوام متحدہ کا تمام فریقوں پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے شام میں جاری جنگ کے تمام فریقوں کو شمالی شہر حلب سے شدید زخمیوں اور بیمار افراد کو نکالنے کے لیے کسی سمجھوتے تک نہ پہنچنے کا الزام عاید کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں ،شامی عرب انجمن ہلال احمر ،ریڈکراس اور دوسرے امدادی گروپوں نے کئی روز تک جنگ زدہ شہر سے زخمیوں کو نکالنے کے لیے مذاکرات کیے ہیں لیکن روس اور شام نے عارضی جنگ بندی کو ختم کرتے ہوئے حلب پر دوبارہ فضائی حملے شروع کردیے ہیں اور ان امدادی ایجنسیوں کی کوششیں دھری کی دھری رہ گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار اسٹیفن او برائن نے ایک بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی مریض یا اس کے ساتھ خاندان کے ارکان کو نکالا نہیں جاسکا ہے۔انھوں نے مختلف عوامل کو اس کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مشرقی حلب میں مقامی حکام کی جانب سے انھیں ضروری منظوری نہیں ملی تھی ۔

انھوں نے کہا کہ مسلح گروپوں نے انخلاء کی کارروائی کو محفوظ بنانے کی ضمانت دینے کی شرط عاید کی تھی جبکہ شامی حکومت نے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حصے میں ادویہ اور دوسرا امدادی سامان لے جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔

مسٹر اوبرائن نے مزید کہا کہ ''جنگ میں تین دن کے وقفے کے بعد تنازعے کے فریقوں میں کوئی اتفاق نہیں ہوا ہے،فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں اور اب تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے''۔

روس نے سوموار کے روز جنگ بندی میں تجدید کے امکان کو مسترد کردیا تھا اور باغی گروپوں پر زخمیوں کے انخلاء میں رکاوٹیں حائل کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ ''گذشتہ تین روز کے دوران جو کچھ ہونا چاہیے تھا،وہ نہیں ہوا ہے۔جنگ میں مزید وقفے کے لیے ہمارے مخالفین کو مناسب رویّے کا اظہار کرنا چاہیے''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ شامی وزیر خارجہ ولید المعلم آئندہ جمعہ کو روس کا دورہ کریں گے اور اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے بات چیت کریں گے۔

وہ یہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں جب مغربی ممالک روس پر حلب میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی طیارے صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے زیر قبضے علاقے پر بلا امتیاز بمباری کررہے ہیں۔