کیا مصریوں نے گھانا کے اسرائیلی کوچ کو قتل کی دھمکی دی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

گزشتہ دو روز سے اسرائیلی میڈیا میں صرف وہ دھمکی زیر گردش ہے جو گھانا کی فٹ بال ٹیم کے اسرائیلی کوچ "ایورام گرانٹ" کو ملی ہے۔ گھانا کی ٹیم 13 نومبر کو مصر کے شہر اسکندریہ میں عالمی کپ کے کوالی فائنگ راؤنڈ میں مصر کی فٹ بال ٹیم کا مقابلہ کرے گی۔

اسرائیلی اخبار "ہاریٹز" کے دعوے کے مطابق مصری حکام نے میچ کے دوران اسرائیلی کوچ پر حملے کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے بعض مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

ایک اسرائیلی ویب سائٹ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ مصر میں شدت پسند پرستاروں کے گروپوں نے گرانٹ کو قتل کی دھمکی دی ہے اور مصری حکام نے اسرائیلی کوچ کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کی سطح کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

دیگر اسرائیلی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے مصر کی قومی ٹیم کے کوچ ہیکٹر کوپر نے باور کرایا ہے کہ وہ میچ شروع ہونے سے قبل گرانٹ سے مصافحہ نہیں کریں گے۔

ادھر سکیورٹی ذرائع نے اسرائیلی میڈیا میں زیر گردش اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا کہ گرانٹ کو قتل کی دھمکی دینے والے شدت پسند پرستاروں کے گروپوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مذکورہ ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ گھانا کی ٹیم اور کوچ سمیت تمام ذمے داران کی سکیورٹی معمول کے مطابق ہوگی جس طرح کے دیگر ٹیموں کے استقبال کے موقع پر ہوتی ہے۔ ذرائع نے باور کرایا کہ گھانا کی ٹیم اور کوچ مصر میں موجودگی کے دوران مکمل طور پر محفوظ ہوں گے۔

مصر کی فٹ بال فیڈریشن کے ترجمان اسامہ اسماعیل نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ " سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی میڈیا میں جو کچھ نشر ہو رہا ہے وہ حقیقت کے یکسر برخلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی کوچ کا مصری فیڈریشن اور عوام کی جانب سے خیرمقدم کیا جائے گا اور کھیلوں کی اخلاقیات ہمیں اور ہمارے عوام کو گرانٹ کی شہریت اور مذہب کی بنیاد پر انہیں کسی طور بھی نشانہ بنانے سے روکتی ہیں۔

اسامہ اسماعیل کے مطابق انہیں سکیورٹی حکام کی جانب سے اسرائیلی کوچ کو ممکنہ خطرے کے حوالے سے کوئی نوٹی فکیشن یا شدت پسند تماشائیوں کے کسی گروپ کی گرفتاری کے متعلق اطلاع نہیں ملی۔

اسامہ اسماعیل کا کہنا تھا کہ فیفا کے اصول و ضوابط کھیلوں کے میدان میں کسی بھی نوعیت کے سیاسی ، نسلی یا مذہبی اشاروں کے اظہار سے روکتے ہیں۔ اسی واسطے مصری عوام اس بات سے آگاہ ہیں کہ اسرائیلی کوچ کے حوالے سے کسی بھی نامناسب فعل کا نتیجہ مصر کی ٹیم پر پابندی اور اس کے تمام میچ مصر کی سرزمین سے باہر منعقد کرانے کے فیصلے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے روس میں آئندہ فٹ بال ورلڈ کپ میں مصر کے پہنچنے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی کوچ کا تقرر گھانا میں ذمے داران سے متعلق معاملہ ہے۔ تاہم مصر میں اسرائیلی کوچ کا معمول کے مطابق استقبال کیا جائے گا اس لیے کہ کھیلوں کا سیاست اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں