.

شام : حزب اللہ کے 1500 سے زیادہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ بڑے فخر کے ساتھ تنظیم کی ملیشیاؤں کے شام میں مختلف علاقوں میں لڑنے کا اعتراف کرتے ہیں جس کا مقصد بشاار الاسد کی حکومت اور اس کی ملیشیاؤں کو سپورٹ کرنا ہے۔ تاہم حزب اللہ براہ راست صورت میں صراحت کے ساتھ اپنی ہلاکتوں کا اعلان نہیں کرتی بلکہ جنوبی لبنان میں حتی الامکان خاموشی کے ساتھ اپنے ارکان کی تدفین پر اکتفا کرتی ہے۔ ساتھ ہی اس جانب اشارہ کر دیا جاتا ہے کہ یہ ارکان "جہادی مشن" ادا کرتے ہوئے مارے گئے۔ اس حوالے سے آخری 40 جنگجو شام کے شہر حلب میں جاری لڑائی کے دوران مارے گئے جن کو حزب اللہ نے ان کے آبائی دیہات میں دفن کر دیا۔

اگرچہ حزب اللہ کی ملیشیاؤں کے حقیقی جانی نقصان کے بارے میں انکشاف نہیں کیا جاتا تاہم اندازوں کے مطابق تنظیم کے مارے جانے والے ارکان کی تعداد 1500 سے تجاوز کر چکی ہے۔ جب کہ شامی اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس امر کی تصدیق ایرانی مرشد کے مشیر برائے عسکری امور بریگیڈیئر جنرل یحیی رحیم صفوی کے بیان سے ہوتی ہے جن کا کہنا ہے کہ شام میں حزب اللہ کے ہزاروں ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔ لبنانی نوجوانوں کے شام کی جنگ میں جھونکے جانے کے مظہر نے عمومی طور پر پورے لبنان اور خود شیعہ فرقے کے اندر غیض و غضب کے ردعمل بھڑکا دیے ہیں۔

ادھر ایرانی میڈیا نے کچھ عرصہ قبل حلب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر ہادی زاہد کی ہلاکت کی خبر دی تھی جو حلب شہر میں جاری معرکوں کی نگرانی کرنے والا نمایاں ترین افسر تھا۔

اس کے علاوہ ایرانی اخبار "کیہان" کے مطابق گزشتہ 4 برسوں کے دوران بشار الاسد کی حکومت کا دفاع کرتے ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ملیشیاؤں قدس فورس ، فاطمی ملیشیا اور زینبی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے 2700 جنگجو ہلاک یا قید ہوچکے ہیں۔