.

مشرقی حلب پر دو ہفتے کے وقفے کے بعد تباہ کن فضائی حملے

شام کو جنگ کے نتیجے میں بدترین غذائی بحران کا سامنا، 70 لاکھ افراد خوراک کے عدم تحفظ کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے پر لڑاکا طیاروں نے دو ہفتے کے وقفے کے بعد منگل کے روز شدید بمباری کی ہے۔

شامی رضاکاروں پر مشتمل تنظیم شہری دفاع کے ایک عہدے دار ابراہیم ابواللیث نے بتایا ہے کہ ''لڑاکا طیارے حلب کی فضا میں کافی دیر تک پروازیں کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر فضائی حملے کیے ہیں اور پیراشوٹ بم گرائے ہیں۔اس طرح کے حملے پندرہ روز قبل کیے گئے تھے''۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران حلب میں تین اسپتالوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔اس بمباری میں طبی عملہ اور متعدد مریض زخمی ہوگئے ہیں۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ فوری طور پر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ مشرقی حلب پر روس یا شام میں سے کس کے لڑاکا طیاروں نے فضائی حملے کیے ہیں۔صوبہ حلب کے مغرب میں واقع ایک گاؤں عوجل پر ایک اسپتال پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد مریض زخمی ہوئے ہیں۔ان بدقسمت مریضوں کو نزدیک واقع گاؤں کفر نہا میں سوموار کے روز ایک اسپتال پر حملے کے بعد یہاں منتقل کیا گیا تھا۔

ایک اور قصبے عطرب پر سوموار کو علی الصباح ایک اسپتال پر پانچ مرتبہ بمباری کی گئی تھی۔ان حملوں میں اسپتال کے کمرے ، فارمیسی اور ایمبولینس گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں اور طبی عملہ زخمی ہوگیا ہے۔عطرب اور کفر نہا میں واقع اسپتالوں کو اس سے پہلے بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت دفاع نے کہا ہے کہ روسی میزائلوں سے مشرقی حلب کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ وزارت دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ روسی اور شامی لڑاکا طیاروں نے گذشتہ اٹھائیس روز سے حلب پر بمباری نہیں کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس پر جان بوجھ کر اسپتالوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کے الزامات عاید کرچکی ہیں لیکن دمشق حکومت اور ماسکو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حلب پر حالیہ مہینوں کے دوران متعدد مرتبہ فضائی حملے اور توپ خانے سے تباہ کن بمباری کی جاچکی ہے جس سے شہر کے بڑے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں۔

شام میں غذائی بحران

شام میں جاری لڑائی کے نتیجے میں خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کاشت کار پیدواری لاگت بڑھ جانے کی وجہ سے اب غذائی اجناس کاشت کرنے کے قابل ہی نہیں رہے ہیں۔عالمی ادارہ برائے خوراک وزراعت اور عالمی خوراک پروگرام کا کہنا ہے کہ ''بہت سے شامی کاشت کار بیجوں ،کھادوں اور ٹریکٹر کے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔اس لیے انھوں نے کاشت کاری کو ترک کردیا ہے اور ان کی زمینیں بنجر پڑی ہیں۔

ان دونوں اداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شام میں گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہے۔سنہ 2011ء میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے وقت گندم کی سالانہ پیداوار اوسطاً چونتیس لاکھ (3.4 ملین) میٹرک ٹن تھی جو اس سال کم ہوکر صرف پندرہ لاکھ (1.5 ملین) میٹرک ٹن رہ گئی ہے۔شام میں گندم ہی سب سے زیادہ خوراک کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

بیان کے مطابق 2015-16 کے دوران سب سے کم رقبے پرغذائی اجناس کاشت کی گئی ہیں۔انھوں نے کھیتوں کے سروے کی بنیاد پر یہ تفصیل فراہم کی ہے اور بتایا ہے کہ جَو کی فصل کی پیداوار بھی کم ترین سطح پر رہی ہے۔

عالمی خوراک پروگرام کی ترجمان بیٹینا لوسچر نے جنیوا میں منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''شام میں خوراک کی پیداوار لڑائی ،امن و امان کی خراب صورت حال اور خراب موسمی حالات کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وہ ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے''۔

مشرقی حلب کے مکینوں کو خاص طور پر خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔شہر کے اس حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے اور شامی فورسز نے اس کا چاروں طرف سے محاصرہ کررکھا ہے۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت بھی مشرقی حلب میں ڈھائی سے پونے تین لاکھ شہری موجود ہیں۔

ترجمان لوسچر کا کہنا تھا کہ ''آخری مرتبہ اقوام متحدہ نے جو راشن مہیا کیا تھا،وہ ختم ہوچکا ہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ اب لوگ وہاں کیسے صورت حال کا مقابلہ کررہے ہیں''۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ شام جنگ سے قبل مویشی برآمد کیا کرتا تھا لیکن اب ریوڑ اور باڑے سکڑ چکے ہیں۔ بھینسوں کی تعداد 30 فی صد کم ہوچکی ہے،بکریوں اور بھیڑوں کی تعداد میں 40 فی صد اور پولٹری کی پیداوار میں 60 فی صد کمی واقع ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کی ستر لاکھ سے زیادہ آبادی خوراک کے معاملے میں عدم تحفظ کا شکار ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ انھیں ہمیشہ سے یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ انھیں اگلا کھانا ملے گا بھی یا نہیں۔نیز وہ کہاں سے آئے گا۔ان کے بہ قول عالمی خوراک پروگرام شام میں ہرماہ چالیس لاکھ سے زیادہ لوگوں میں راشن تقسیم کرتا ہے۔