شامی، روسی لڑاکا جیٹ کی ادلب اور حلب پر بمباری ،40 افراد ہلاک
شام اور روس کے لڑاکا طیاروں نے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے اور شمال مغربی صوبے ادلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بدھ کو مسلسل دوسرے روز تباہ کن بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے حلب کے مشرقی حصے پر بمباری کی ہے اور شمالی مغربے صوبے ادلب کے مختلف علاقوں کی فضائی حدود میں روسی لڑاکا طیارے رات بھر سے صبح تک دیکھے گئے ہیں۔
رصد گاہ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز مشرقی حلب پر فضائی حملوں میں پانچ بچوں اور ایک امدادی کارکن سمیت اکیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ فضائی بمباری روسی یا شامی لڑاکا طیاروں نے کی ہے اور انھوں نے حلب کے علاقوں الشعار ،السکاری ،السخور اور کرم البیک کو نشانہ بنایا ہے۔
صوبہ حلب کے مغرب میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بھی بمباری کی گئی ہے اور ایک گاؤں باتبو پر ایک حملے میں انیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
روس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے حلب پر نئی بمباری کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے بدستور شمالی شہر پر فضائی حملے روکے ہوئے ہیں۔
رصدگاہ اور مشرقی حلب کے مکینوں کا کہنا ہے کہ لڑاکا جیٹ سے شہری علاقوں پر راکٹ فائر کیے گئے ہیں،ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم برسائے گئے ہیں اور سرکاری فوج نے توپ خانے سے بھی گولہ باری کی ہے۔شہری دفاع کے ایک کارکن بیبرس مشعل نے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹروں نے ایک لمحے کے لیے بھی شہر پر بمباری نہیں روکی ہے۔
دوسری جانب روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ ''اس ''بڑی کارروائی'' کے دوران مشن انجام دینے والے لڑاکا جیٹ نے طیارہ بردار بحری بیڑے ایڈمرل کوزنتسوف سے اڑان بھری تھی۔یہ طیارہ بردار بحری جہاز گذشتہ ہفتے شام کے ساحل پر لنگر انداز ہوا تھا۔
امریکا اورا قوام متحدہ نے حلب پر تازہ فضائی حملوں کی مذمت کی ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ اس کو ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ حلب میں اسپتالوں اور کلینکوں کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی حلب پر ان نئے فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف تشدد کو جاری رکھا ہوا ہے۔
انسانی حقوق کمیٹی میں اس قرارداد کے حق میں 116 رکن ممالک نے ووٹ دیا ہے،15 نے اس کی مخالفت کی ہے اور 49 رکن ممالک رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے ہیں۔
قرارداد کے مسودے میں شامی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہر طرح کے حملے روک دیں ،دہشت گردی کے حربوں کو استعمال کرنے کا سلسلہ ترک کردیں ،بیرل بموں ،کیمیائی ہتھیاروں اور بھاری توپ خانے کا استعمال بھی بند کردیں''۔
اس میں شامی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی ہے اور اس پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔مجوزہ قرارداد میں تمام فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ''تنازعے کےسیاسی حل کے لیے یہ ناگزیر ہے''۔