بے قصور فلسطینی صحافی کی انتظامی حراست میں تیسری بار توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے انتظامی حراست کے تحت قید کیے گئے ایک مقامی فلسطینی سینیر صحافی کی مدت حراست میں تیسری بار توسیع کردی ہے۔ سزا پانے والے صحافی پر کسی قسم کا الزام عاید نہیں کیا گیا۔ اسے محض شبے کی بنیاد پر مسلسل پابندی سلاسل رکھا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق گذشتہ روز اسرائیلی حکام کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ 23 اپریل سے زیرحراست صحافی عمر نزال کی مدت حراست میں تیسری بار توسیع کی جا رہی ہے۔

اسیر صحافی کی اہلیہ مارلین الربضی نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں توقع تھی کہ اسرائیلی حکام اس بار اس کے شوہر کی مدت حراست میں توسیع نہیں کریں گے بلکہ رہا کردیں گے مگر ہم صہیونی حکام کا فیصلہ سن کر حیران رہ گئے۔ الربضی نے بتایا کہ ان کے شوہر عمر نزال فلسطینی پریس کلب کے رکن ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اسرائیلی انتظامیہ نے ان کی مدت حراست میں کتنے عرصے کی توسیع کی ہے۔

خیال رہے کہ54 سالہ عمر نزال کو صہیونی فوج نے 23 اپریل 2016ء کو مقبوضہ مغربی کنارے اور اردن کے درمیان قائم النبی صالح گذرگاہ سے اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ بوسنیا میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بیرون ملک جا رہے تھے۔ اسرائیلی حکام نے انہیں بغیر کسی الزام کے حراست میں لینے کے بعد چار ماہ کے لیے انتظامی حراست میں ڈال دیا تھا۔ چار ماہ مکمل ہونے کے بعد ان کی حراست میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی گئی تھی۔ اب تیسری بار ان کی حراست میں توسیع کی گئی ہے۔ صہیونی حکام کا عمر نزال پر اور تو کوئی الزام عاید نہیں کرسکے تاہم یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق محاذ برائے تنظیم آزادی فلسطین نامی تنظیم کے ساتھ ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی زندانوں میں 700 فلسطینی بغیر کسی الزام کے محض شبے کی بنیاد پر انتظامی حراست کی ظالمانہ پالیسی کے تحت پابند سلاسل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں