.

سعودی عرب: مظاہروں میں شریک 13 خواتین کے خلاف سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی دارالحکومت ریاض میں منگل کے روز دہشت گردی سے متعلق خصوصی عدالت میں 13 سعودی خواتین شہریوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا۔ استغاثہ کی جانب سے دائر کیے جانے والے مقدمے میں مذکورہ خواتین پر قصیم صوبے کے شہر بریدہ میں ریلیوں اور مظاہروں میں شرکت کا الزام ہے۔ مظاہروں اور ریلیوں میں جن کی کال سوشل میڈیا کے ذریعے دی گئی تھی.. ریاست کے خلاف نعرے بازی اور وزیر داخلہ کی تصاویر جلانے کی کارروائی بھی دیکھنے میں آئی تھی۔

استغاثہ کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ خواتین نے جن افعال کا ارتکاب کیا ہے اس پر شرعی طور سے مواخذہ کیا جائے ، ان کو سخت تعزیری سزاؤں کا مستحق ٹھہرایا جائے اور ان کو مملکت سے باہر سفر سے روک دیا جائے۔

پہلی سماعت میں تمام 13 خواتین ملزموں کے پیش ہونے سے انکار کے بعد 4 خواتین کی جانب سے 2 نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقدمے کو دیکھنے والے جج نے دونوں نمائندوں کو تاکید کی کہ آئندہ سماعت میں تمام 13 خواتین کی حاضری کو یقینی بنائیں ، اس لیے کہ الزامات کی نوعیت کا تقاضہ ہے کہ خواتین ملزموں کا جواب براہ راست سنا جائے۔

جج نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام خواتین کی وصولی کو آسان بنانے کے لیے انہیں ٹکٹ اور قیام گاہ فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر چار خواتین کے دونوں نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں ایک ماہ کی مہلت دی جائے تاکہ استغاثہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کو تفصیلی جواب تیار کیا جاسکے۔