.

شام میں پاسداران ملیشیاؤں کی ہلاکتیں 10 ہزار : ایرانی مزاحمتی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران حزب اختلاف کی تنظیم " ایرانی قومی کونسل برائے مزاحمت" نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں ایرانی مداخلت کے بعد سے پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام شیعہ ملیشیاؤں کی مجموعی ہلاکتیں 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں۔

کونسل کے مطابق ہلاک شدگان میں پاسداران انقلاب میں بریگیڈیئر جنرل اور کرنل کے عہدوں کے حامل 69 افسران کے نام بھی شامل ہیں جو شامی اپوزیشن کے ساتھ جھڑپوں کے دوران مارے گئے۔

ایران میں سینئر جنگجوؤں اور ہلاک شدگان کے اعداد و شمار رکھنے والے ایک غیر سرکاری ادارے نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ شام میں ایک ہزار سے زیادہ ایرانی مارے جا چکے ہیں۔

ایرانی مزاحمتی کونسل نے باور کرایا ہے کہ ملک کے اندر سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے تصدیق ہوتی ہے کہ شام میں ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے لبنانی ، افغانی ، پاکستانی اور عراقی ایجنٹوں کی ہلاکتیں 10 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہیں۔

کونسل کے مطابق بھاری جانی نقصان کو ظاہر نہ کرنے اور ہلاکتوں کے سبب منفی سماجی اثرات کو کم کرنے کے واسطے شام میں افغانستان ، پاکستان اور عراق سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر ایجنٹوں کی لاشوں کو ایران واپس نہیں لایا جاتا ہے۔

کونسل نے یہ بھی بتایا ہے کہ لبنان سے تعلق رکھنے والے ایرانی ایجنٹوں کو یا تو لبنان میں یا پھر شام میں دفن کیا جاتا ہے۔

ایران کے 69 افسران کے نام

ایرانی مزاحمتی کونسل کی ایک ذیلی کمیٹی نے بریگیڈیئر جنرل اور کرنل کے عہدوں پر فائز 69 افسران کے نام شائع کیے ہیں جو شام میں مارے گئے :

بریگیڈیئر جنرل : حسن شاطری، سيد حميد طباطبائی، حاج اسماعيل حيدری، محمد جمال باقلعئی، داد الله شيبانی، جابر دريساوی، محمد علی علی آبادی، علی رضا توسلی، حسين بادبا، ہادی كجباف، روزبہ ہليسيائی، حاج عبدالله اسكندری، محمد علی الله آبادی، عزت الله سليمانی، فرشاد حسينی نجاد، عبدالرضا مجيری، حسين فدائی، سعيد سياح طاہری، ستار اورنگ، حسن رزاقی، حميد رضا انصاری، احمد مجدی نسب، حاج علی قربانی، رضا فرزانہ، حسن علی شمس آبادی، محسن قاجاريان، ماشاء الله شمسہ، جواد دوربين، سيد شفيع شفيعی، جهانگیر جعفرنيا، محمد حسن حكيمی، رضا رستمی مقدم، احمد غلامی، داريوش درستی، مصطفى رشيد پور، اكبر نظری، حسين علی خانی، غلام رضا سمائی اور ذاكر حيدری۔

کرنل : امير رضا علی زاده، حشمت الله سہرابی، عباس عبدالہی، قاسم غريب، كريم غوابش، مسلم خيزاب، مصطفى صدر زاده، اسماعيل خان زاده، محمد رضا علی خانی، عبدالرضا رشوند، محمد طحان، ستار محمودی، قاسم تيموری، مرتضی ترابی كامل، اصغر فلاحت بيشہ، حمزه كاظمی، عبدالحسين سعادت خواه، احمد گودرزی، محسن ماندنی، علی طاہری ترشيزی، سعيد شاملو، محمد بلباسی، رحيم كابلی، علی منصوری، قدرت الله عبديان، مرتضى عطائی، عادل سعد، محمد رضا زارع الوانی، مرتضى زرہرن اور مجتبى ذوالفقار۔

ایرانی مزاحمتی کونسل کے مطابق " شام میں ایرانی نظام کو پہنچنے والے بھاری جانی نقصان نے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور پاسداران کی جانب سے نوجوانوں ، اسکول کے طلبہ ، ملازمین اور مزدوروں کو شام بھیجنے کی کوششوں نے ایرانی عوام کے اندر جنگ سے نفرت بھڑ کا دی ہے"۔

کونسل کے مطابق ایرانی شہریوں کا کہنا ہے کہ شام میں ایرانی نظام کے جانی نقصان نے عراق کے ساتھ 8 برس جاری رہنے والی جنگ کی یاد تازہ کر دی ہے۔