القائم میں پراسرار فضائی حملہ، درجنوں عراقی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں شامی سرحد کے نزدیک واقع علاقے القائم پر فضائی حملہ کرنے والوں کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی اور اس سلسلے میں متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ایک جانب عراقی فوجی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے جب کہ دوسری جانب بین الاقوامی اتحاد کو اس حملے کا ذمے دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ حملے میں درجنوں شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے میں ایک بازار کو ہجوم کے اوقات میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بعض پورے خاندان موت کی نیند سو گئے جب کہ بعض لوگ اپنی تنخواہوں کی وصولی کے واسطے لائنوں میں کھڑے تھے۔

داعش کے خلاف برسرپیکار اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتحادی طیاروں نے اس وقت مذکورہ علاقے کو حملے کا نشانہ نہیں بنایا۔

داعش تنظیم کے خلاف معرکوں کی نگرانی کرنے والی مشترکہ عراقی آپریشنز کی کمان نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب موصل آپریشن میں عراقی افواج کی پیش قدمی جاری ہے۔ عراقی افواج نے آپریشن کو دشوار اور پیچیدہ قرار دیا ہے اس لیے کہ داعش تنظیم موصل میں دو برس سے اپنی فورس کو مضبوط کر رہی ہے.. ایسی صورت میں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے رواں برس کے اختتام تک داعش تنظیم کے مکمل خاتمے کی ہدایت عملی طور پر ممکن نہیں نظر آتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں