رقہ میں داعش سے لڑنے مزید 200 امریکی فوجی جائیں گے
امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ واشنگٹن 200 اضافی فوجیوں کو شام بھیجے گا جو "داعش" کے گڑھ رقّہ شہر میں تنظیم کے خلاف آپریشن میں شریک ہوں گے۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ڈائیلاگ کانفرنس کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کارٹر کا کہنا تھا کہ اضافی فورس میں اسپیشل فورسز کے تربیت کار ، مشیران اور دھماکا خیز آلات کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں کے اہل کار شامل ہیں۔ یہ اضافی فورس شام میں پہلے سے موجود امریکی اسپیشل فورس میں شامل ہوجائے گی۔
کارٹر کے مطابق شام میں بشار کی سپورٹ کے واسطے روس کی مداخلت نے محض خانہ جنگی کو بھڑکایا ہے اور شامی عوام کے مصائب میں اضافہ کیا ہے۔
کارٹر کے نزدیک اضافی فورس کا شام بھیجا جانا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد داعش تنظیم پر آخری کاری ضرب لگانا ہے۔
سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے 5 نومبر کو عسکری آپریشن "فرات کا غضب" شروع کیا تھا۔ آپریشن کا مقصد رقّہ شہر کو "علاحدہ" کرنا ہے جس کو داعش شام میں اپنا دارالخلافہ شمار کرتی ہے۔
کارٹر کے مطابق امریکا رقّہ کو علاحدہ کرنے کے سلسلے میں ہزاروں مقامی شامی جنگجوؤں کی مدد کر رہا ہے جو اس وقت شہر سے تقریبا 15 میل دور ہیں۔
داعش تنظیم کو مسلسل نشانہ بنانے والی بین الاقوامی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ "سیریئن ڈیموکریٹک" فورسز کے جنگجوؤں کی تعداد اس وقت 45 ہزار کے قریب ہے۔
-
ابوالحسن المہاجر داعش کا نیا ترجمان مقرر، ترکی کو دھمکیاں
شدت پسند گروپ داعش نے انٹرنیٹ پر ایک ریکارڈ صوتی پیغام پوسٹ کیا ہے جس میں ابو ...
مشرق وسطی -
داعش اور حزب اللہ ایک سکے کے دو رُخ!
ایک دوسرے کے نظریاتی دشمنوں میں گہری مماثلتیں
مشرق وسطی -
موصل: داعش کے ٹھکانوں پر پہلی مرتبہ رات میں فضائی بم باری
عراقی فضائیہ کے ایف-16 طیاروں نے موصل میں داعش تنظیم کے ٹھکانوں پر پہلی مرتبہ رات ...
مشرق وسطی